اٹھارہ ہزاری(شیخ غلام مصطفیٰ) دن دہاڑے دسویں جماعت کے طالب علم عمر فاروق کے مبینہ قتل نے پورے علاقے کو سوگ کی کیفیت میں مبتلا کر دیا، نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ تدفین آبائی قبرستان میں کر دی گئی

اٹھارہ ہزاری: دن دہاڑے دسویں جماعت کے طالب علم عمر فاروق کے مبینہ قتل نے پورے علاقے کو سوگ کی کیفیت میں مبتلا کر دیا، نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ تدفین آبائی قبرستان میں مکمل کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ اٹھارہ ہزاری میں مقتول کے چچا اظہر عباس کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کی سنگینی کے پیش نظر دن رات ایک کر کے ملزمان کو ٹریس کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ مختلف زاویوں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

مقتول عمر فاروق، جو اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور دسویں جماعت کا طالب علم تھا، ایک ہونہار اور خوش اخلاق طالب علم تھا۔ اہل خانہ کے مطابق وہ روزانہ کی طرح گھر سے نکلا مگر واپس نہ آ سکا، اور دن دہاڑے پیش آنے والے اس دلخراش واقعے نے پورے خاندان کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔

اہل خانہ اس وقت شدید غم و صدمے کی کیفیت میں ہیں، جبکہ بہن بھائی اپنے چھوٹے بھائی کی جدائی پر بے حال اور اشکبار ہیں۔ گھر میں صف ماتم بچھ گئی ہے اور ہر طرف افسوس اور آہ و بکا کی فضا قائم ہے۔

مقتول کا بڑا بھائی پولیس میں بطور کانسٹیبل فرائض انجام دے رہا ہے، جو اپنے ہی گھر کے اس اندوہناک سانحے پر شدید ذہنی صدمے کی کیفیت میں مبتلا ہے۔
واقعے کے بعد پورے ضلع میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں نے اس افسوسناک واقعے کو معاشرتی بگاڑ اور بڑھتے ہوئے جرائم کی سنگین مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ضلع کی نظریں اب اٹھارہ ہزاری اور جھنگ پولیس پر مرکوز ہیں کہ وہ اس کیس کو کس انداز میں آگے بڑھاتی ہے۔

متاثرہ خاندان کا تعلق ملک (موچی) برادری سے ہے، برادری سمیت پورا علاقہ تحصیل بھر جو اس المناک واقعے پر شدید دکھ اور کرب میں مبتلا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش ہر پہلو سے جاری ہے اور جلد اہم پیش رفت سامنے آنے کی توقع ہے۔

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +