اپنی بیوی کی محبت پر قربان ایک خوبرو ڈاکٹر.. قتل کے منصوبے میں وہ بھی شامل جس کا یقین نہ تھا، بندہ اعتبار کرے تو کس پر کرے، آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے

حسن قیامت ت خیز کی کارستانیاں : کسی کے کہنے پر بیوی کو نہ چھوڑنے والا معروف ڈاکٹر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔۔۔ کراچی میں چند ہفتے قبل پیش آئے ق۔ت۔ل کے واقعہ کی اصل کہانی ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر سارنگ کا تعلق بدین سے تھا اور وہ کراچی میں پریکٹس کرتے تھے –

۔انکی جوان بیوی رمینہ بھی ڈاکٹر تھی اور وہ بھی ایک ہسپتال میں پریکٹس کررہی تھی ۔ وقوعہ کے روز ڈاکٹر سارنگ ڈیوٹی کے بعد اپنی بیوی کے والدین کے گھر پہنچے وہاں سے بیوی کو ساتھ لیا اور اپنی رہائش گاہ کی طرف ایک رکشے پر روانہ ہوئے جب رکشہ مہران ہوٹل کے قریب ایک انڈر پاس سے گزر رہا تھا تو ایک گاڑی نے اوورٹیک کرکے اسے روکا اور پھر اس میں سے ایک مس۔لح نقاب پوش نوجوان باہر نکلا اس نے آکر ڈاکٹر سارنگ کو رکشے سے اترنے کو کہا مگر انکار پر اس نے گو۔لیاں چلا دیں ایک گو۔لی ڈاکٹر سارنگ کے سینے پر جب کہ تین ٹانگوں میں لگیں واردات کرکے ملزمان فرار ہو گئے-

ڈاکٹر سارنگ کی بیوی راہ گیروں کی مدد سے انہیں ایک اور رکشے میں ڈال کر قریبی ہسپتال لے گئی جہاں کچھ دیر بعد ڈاکٹر سارنگ جان بحق ہو گئے ۔۔۔ پولیس کی ابتدائی پوچھ گچھ کے نتیجے میں کوئی سراغ نہ مل سکا نہ تو ڈاکٹر سارنگ کی کسی سے دشمنی تھی نہ کوئی لین دین کا تنازعہ اور نہ ہی گھریلو جھگڑا تھا ۔ ڈاکٹر سارنگ اور ڈاکٹر رمینہ اچھی خوش زندگی گزار رہے تھے جب پولیس کے سامنے یہ کیس ایک اندھا ق۔ت۔ل بن گیا تو دیگر اطراف چھان بین کی گئی

۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر مق۔تول کی بیوی کا کال ڈیٹا نکلوایا تو ایک نمبر جو موبائل میں سیو نہیں تھا اس سے بار بار کالز کا آنا اور اس نمبر پر جانا ثابت ہو گیا ۔ حتیٰ کہ وقوعہ سے پہلے اور بعد میں بھی اس نمبر والے شخص کا ڈاکٹر رمینہ سے رابطہ رہا جب ان سے پوچھا گیا تو ڈاکٹر رمینہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکی ، ریکارڈ نکلوایا گیا تو پتہ چلا کہ یہ ایک سرکاری افسر کا نمبر تھا جس سے ڈاکٹر رمینہ ڈیڑھ سال سے رابطے میں تھی ۔ اس دوران بدین سے مق۔تول کے بھائی بھی پہنچ گئے انہوں نے انکشاف کیا کہ کچھ ماہ قبل ڈاکٹر سارنگ کا تبادلہ ہوا تھا اور انہوں نے چند ماہ گوادر کے ایک ہسپتال میں گزارے ۔

۔۔ پولیس نے ڈاکٹر رمینہ کو تھانے منتقل کیا تو ذرا دیر لگائے بغیر اس نے ساری کہانی سے پردہ اٹھا دیا ۔۔۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ جن دنوں ڈاکٹر سارنگ گوادر میں تھے ایک سرکاری افسر جس کا نام حسیب تھا یہ ڈاکٹر رمینہ کی زندگی میں آگیا اور اس نے لیڈی ڈاکٹر پر مہربانیوں کی بارش کردی ڈاکٹر رمینہ بھی اس کی طرف مائل ہو گئی لیکن یہ شخص جنونی نکلا یہ چاہتا تھا کہ ڈاکٹر رمینہ سارنگ سے طلاق لے کر اس سے شادی کرے ۔۔

ڈاکٹر رمینہ نے حسیب کو سمجھایا کہ ایسے طلاق آسانی سے نہیں ہوگی اس کے لیے کوئی وجہ چاہیے جو میرے پاس نہیں ہے اگر تم واقعی مجھے پانا چاہتے ہو تو خود کوئی بندوبست کرو ۔ اس پر حسیب نے ڈاکٹر سارنگ کو مختلف طریقوں سے ڈرا کر طلاق دلوانا چاہی لیکن ڈاکٹر سارنگ اپنی خوبصورت بیوی کو طلاق دینے پر آمادہ نہ ہوئے بلکہ بیوی کے ساتھ ملک چھوڑ کر کہیں اور جانے کا سوچنے لگے تو حسیب نے خطرناک پلان بنا لیا وقوعہ کے روز ملزم نے ایک گاڑی رینٹ پر حاصل کی رمینہ کی اطلاعات پر ڈاکٹر سارنگ کی موجودگی اور لوکیشن کا پتہ چلایا اور پھر اسے انڈر پاس میں گو۔لیاں مار دیں ۔

۔۔۔ اپنے شوہر کی معاون قا۔تلہ ڈاکٹر رمینہ کے علاوہ پولیس نے حسیب کو بھی گرفتار کر لیا تھا جنہیں چالان کرکے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔ یوں حسن سے مالا مال لیکن عقل و حیا سے عاری ایک پڑھی لکھی لڑکی تین خاندانوں کی بربادی کی وجہ بن گئی –

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +