کوٹ مومن کا ایک پردیسی نوجوان، جو پردیس کی تنہائی میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔۔۔!
تحصیل کوٹ مومن کے گاؤں بچہ کلاں کے رہائشی محمد اقبال روزگار کی تلاش میں تقریباً ساڑھے تین سال قبل عراق گئے تھے، مگر قسمت انہیں زندہ واپس اپنے وطن نہ لا سکی۔
اطلاعات کے مطابق انہیں اچانک فوڈ پوائزننگ ہوئی۔ پردیس میں اپنوں سے دور بیماری کی تکلیف ویسے ہی کئی گنا بڑھ جاتی ہے، اور جب سرہانے اپنا کوئی نہ ہو تو بے بسی کا احساس لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
ساتھیوں نے اپنی بساط کے مطابق ابتدائی طبی امداد فراہم کی، مگر وہ جانبر نہ ہو سکے اور اپنے کمرے میں ہی 24 مئی کو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
انتقال کی خبر گھر پہنچی تو کہرام مچ گیا۔ اہل خانہ نے میت وطن لانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر غیر قانونی طریقے سے عراق جانے کی وجہ سے قانونی پیچیدگیاں آڑے آ گئیں۔
کئی ہفتوں کی جدوجہد کے بعد مقامی پاکستانی دوستوں، سیاسی و سماجی شخصیات کی کوششوں سے تمام مراحل مکمل ہوئے اور چند روز قبل محمد اقبال کی میت اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچائی گئی، جہاں ان کی والدہ اور بھائی نے اشک بار آنکھوں کے ساتھ آخری بار انہیں وصول کیا۔
محمد اقبال تین بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد اور ایک بڑے بھائی پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے، اور اب اس سانحے نے ان کی والدہ کے دکھوں میں ایک اور ناقابلِ برداشت اضافہ کر دیا۔
یہ پوسٹ ملک بھر کے تمام پردیسیوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔
لاکھوں پاکستانی اپنے خاندان کی خوشیوں اور بہتر مستقبل کے لیے دیارِ غیر میں سخت محنت کرتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات، آرام اور کئی خوشیاں قربان کر دیتے ہیں تاکہ ان کے اپنے سکون سے زندگی گزار سکیں۔
خدارا اپنے پردیسی عزیزوں کی قدر کیجیے، ان سے رابطے میں رہیے، ان کی قربانیوں کو کبھی معمولی نہ سمجھیے، کیونکہ بعض اوقات وہ صرف ایک ملاقات اور چند محبت بھرے الفاظ کے منتظر ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 🤲😭