وہ بیٹا، جو اپنی بیوہ ماں کا سہارا تھا اور اسلام آباد میں ایلومینیم کے کام پر مزدوری کرتا تھا، آخرکار بجلی کے بھاری بلوں اور معاشی تنگی کے بوجھ تلے ہار گیا۔😭💔
گزشتہ ماہ صرف 200 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال ہونے پر 10 ہزار سے زائد کا بل آیا، جسے گھر کی جمع پونجی سے بڑی مشکل سے ادا کیا گیا۔ اس ماہ پھر اتنا ہی بھاری بل آیا تو مجبور ماں نے اپنا موبائل بیچ کر بل جمع کروایا اور جو تھوڑے سے پیسے بچے، وہ بیٹے کو کرائے کے لیے دے دیے تاکہ وہ دوبارہ اسلام آباد جا کر مزدوری کر سکے۔
مگر شاید وہ اپنی ماں کی یہ بے بسی برداشت نہ کر سکا۔ اس نے اپنی ماں سے معافی مانگی، خود پر پٹرول چھڑکا اور آگ لگا لی۔23 سالہ اقرار کے جسم کا 75 فیصد حصہ متاثر ہوا وہ تقریباً 20 گھنٹے زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ ہسپتال میں دم توڑ گیا۔
آخر اس نوجوان کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ صرف بجلی کا بل، یا وہ بے حس نظام جس نے ایک محنت کش کو اس نہج پر پہنچا دیا جہاں اسے موت، زندگی سے آسان محسوس ہونے لگی؟
اگر یہ واقعہ درست ہے، تو یہ صرف ایک گھر کا نہیں، پورے معاشرے کے ضمیر پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
💔 غربت نے ایک اور جوان بیٹا چھین لیا…
لودھراں میں پیش آنے والا یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہر صاحبِ دل کو رُلا دینے کے لیے کافی ہے۔
23 سالہ اقرار اسلام آباد میں ایلومینیم کی دکان پر محنت مزدوری کرتا تھا۔ جب وہ اپنی والدہ کے پاس آیا تو معلوم ہوا کہ مسلسل دوسرے مہینے بھی بجلی کا بل 10 ہزار روپے سے زائد آیا ہے۔ والدہ نے یہ بل ادا کرنے کے لیے اپنا موبائل بھی فروخت کر دیا۔
ماں کی بے بسی اور مجبوری اقرار سے دیکھی نہ گئی۔ اس نے والدہ سے معافی مانگی، خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔ جسم کا 75 فیصد حصہ جھلس گیا اور تقریباً 20 گھنٹے زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ دنیا سے رخصت ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم اقرار کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
یہ سانحہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ معاشی مشکلات سے دوچار افراد کو تنہا نہ چھوڑیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں، اور اگر کسی میں مایوسی یا خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات نظر آئیں تو فوری طور پر اس کے ساتھ رہیں اور خاندان یا متعلقہ طبی و نفسیاتی مدد حاصل کرنے میں اس کی مدد کریں۔
سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ جمال میاں خیل