قومی عزم کی مثال :بلوچستان میں دہشت گردی شکست کھا گئی.. کالم نگار غلام مصطفیٰ جمالی

قومی عزم کی مثال: بلوچستان میں دہشت گردی شکست کھا گئی

کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالی
تعلقہ: تحصیل ٹنڈو باگو، ضلع بدین

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اپنی تاریخ، ثقافت اور قربانیوں کی بنیاد پر ایک عظیم قوم کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ملک متعدد آزمائشوں اور دہشت گردی کے حملوں کا سامنا کر چکا ہے، لیکن ہر بار قوم اپنے اداروں، عوام اور بہادر اہلکاروں کی قربانیوں سے مضبوط ہو کر ابھری ہے۔ حال ہی میں بلوچستان کے بارہ مختلف مقامات پر بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملے کیے گئے، جنہیں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور انتہائی مؤثر کارروائیوں کے ذریعے ناکام بنایا، جو نہ صرف قومی سلامتی کے لیے اہم ہے بلکہ دشمن قوتوں کے لیے بھی واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنی عوام اور وطن کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

ان کارروائیوں کے دوران 37 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ 10 سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کی قربانی دے کر شہید ہوئے۔ یہ شہداء صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ ان کی قربانی ایک عظیم سبق ہے جو ہر دل میں وطن سے محبت، حوصلہ اور قومیت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جو اپنی معدنی دولت، قدرتی وسائل، ساحلی حدود اور اسٹریٹجک حیثیت کی وجہ سے ہمیشہ دشمن قوتوں کی نگاہ میں رہا ہے، اور اسی وجہ سے دہشت گرد ہمیشہ اس خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ نہ صرف جسمانی نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں، بلکہ ان کا مقصد سماجی انتشار، خوف اور فرقہ واریت پیدا کرنا بھی ہے۔ ان کا مقصد نوجوانوں کو بہکانا اور سیاسی بے چینی پیدا کرنا ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں سے ان حملوں کو ناکام بنایا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ جدید تربیت، ٹیکنالوجی، خفیہ معلومات اور متحرک حکمت عملی کے ذریعے ہر حملے کو شکست دی جا سکتی ہے۔

شہداء کی قربانی صرف اداروں کے کردار کا نتیجہ نہیں، بلکہ عوام اور نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ہر شہید کا خون ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وطن کی حفاظت میں قربانی لازمی ہے، اور ہم سب کو اپنا حصہ ادا کرنا چاہیے۔ بلوچستان کے باشندے بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا تعاون، مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دینا، اور اپنے علاقوں میں امن قائم رکھنے کے لیے فورسز کے ساتھ کام کرنا واضح کرتا ہے کہ عوام کا شعور اور تعاون دہشت گردی کو روک سکتا ہے۔

تعلیم، روزگار اور سماجی ترقی امن قائم رکھنے کے اہم اوزار ہیں۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، تعلیمی اداروں میں شعور اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے انہیں دہشت گردوں کے اثر سے بچایا جا سکتا ہے۔ جب نوجوان اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں اور اپنے معاشرے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں، تو وہ ملک کی خدمت میں حصہ لیتے ہیں اور دہشت گردی کے لیے جگہ نہیں چھوڑتے۔

سوشل میڈیا اور آن لائن میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ بروقت اور درست معلومات کی فراہمی سے عوام میں خوف اور افواہوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ میڈیا کو لازمی ہے کہ خبریں حقیقت کی بنیاد پر پیش کرے، افواہوں سے بچے، اور عوام کا اعتماد قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہو۔

بلوچستان میں امن قائم رکھنے کے لیے صرف فوج اور پولیس کی قربانی کافی نہیں۔ ہر شہری، تعلیمی ادارہ، تنظیم اور قیادت کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ عوام، فورسز اور حکومت کا اتحاد ہی دہشت گردی کو شکست دے سکتا ہے۔ جب عوام شعور، تعاون اور حب الوطنی کے جذبے سے کام کرتے ہیں، تو کوئی دشمن قوت کامیاب نہیں ہو سکتی۔

شہداء کے خاندان صرف تعزیتی بیانات سے مطمئن نہیں ہو سکتے۔ ریاست کا فرض ہے کہ انہیں مالی، سماجی اور نفسیاتی مدد فراہم کرے تاکہ ان کے بچے، بیوی اور والدہ محفوظ اور باعزت زندگی گزار سکیں۔ ہر شہید کا خاندان ملک کا قیمتی حصہ ہے، اور انہیں نظر انداز کرنا قومی ذمہ داری کے خلاف ہوگا۔

بلوچستان میں جاری سکیورٹی آپریشن اور عوام کے تعاون سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی صرف جسمانی حملوں سے ختم نہیں ہو سکتی۔ سیاسی استحکام، سماجی شعور اور اقتصادی ترقی بھی لازمی ہیں۔ نوجوانوں کو علم، تربیت اور روزگار سے منسلک کرنے سے وہ ملک کی خدمت میں حصہ لیتے ہیں اور دہشت گردوں کی غلط سوچ سے دور رہتے ہیں۔

بلوچستان میں امن قائم رکھنا ایک مسلسل کوشش ہے۔ ادارے، میڈیا، تعلیمی ادارے اور عوام سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اختلافات سیاسی ہو سکتے ہیں، مگر قومی سلامتی پر سب کو ایک صف میں ہونا چاہیے۔ بلوچستان میں بارہ علاقوں میں حملے ناکام ہونے کا سبق یہ ہے کہ اتحاد، قربانی اور حوصلہ ہی دشمن قوتوں کو شکست دے سکتا ہے۔

فی الوقت بلوچستان میں سکیورٹی فورسز مسلسل کوششیں کر رہی ہیں، اور یہ وقت ہے کہ عوام بھی اپنا کردار ادا کریں۔ نوجوانوں کی مثبت سرگرمیاں، تعلیمی اداروں کی تربیت، میڈیا کا ذمہ دارانہ کردار اور حکومت کی پالیسیاں مل کر بلوچستان میں مستقل امن قائم کر سکتی ہیں۔

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد حملوں میں 37 دہشت گرد ہلاک اور 10 اہلکار شہید ہوئے، جو قوم کے لیے ایک سبق ہیں کہ امن قائم رکھنے کے لیے قربانی، اتحاد اور حوصلہ لازمی ہیں۔ بلوچستان کے یہ واقعات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ قوم کا عزم، اداروں کی کارکردگی اور عوام کا تعاون ہی دشمن قوتوں کو شکست دے سکتا ہے۔

بلوچستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ جب بھی دہشت گرد یا دشمن قوتیں سازشیں کرتی ہیں، فورسز اور عوام مل کر انہیں ناکام بناتے ہیں۔ موجودہ واقعات سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے صرف سکیورٹی فورسز کی قربانی کافی نہیں، بلکہ ہر شہری کا شعور، سماجی تعاون اور نوجوانوں کی مثبت سرگرمیاں بھی لازمی ہیں۔

تعلیم اور روزگار کا کردار امن قائم رکھنے میں انتہائی اہم ہے۔ جب نوجوانوں کو تعلیم اور تربیت فراہم کی جاتی ہے، انہیں روزگار کے مواقع ملتے ہیں، تو وہ معاشرے کی تعمیر میں حصہ لیتے ہیں اور دہشت گردی سے دور رہتے ہیں۔ بلوچستان میں نوجوانوں کو صرف ہتھیار یا طاقت سے نہیں بلکہ علم، تربیت اور معاشرتی شعور سے مضبوط کرنا ضروری ہے۔

اقتصادی ترقی بھی دہشت گردی کو کمزور کرنے کے لیے اہم ہے۔ جب عوام کو روزگار اور معیشت کے مواقع ملیں، غربت اور محرومی کم ہوں، اور دہشت گرد عوام کو بہکانے کے مواقع کھو دیں۔ بلوچستان کی ترقی کے لیے حکومت کو تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی ڈھانچے پر توجہ دینی ہوگی۔

مستقبل کے لیے حکمت عملی بھی لازمی ہے۔ دہشت گردی کو صرف عارضی کارروائیوں سے نہیں بلکہ طویل مدتی پالیسیوں کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی تربیت، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور عوام کے ساتھ تعاون مضبوط کرکے بلوچستان میں مستقل امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد حملے ناکام ہونا نہ صرف سکیورٹی فورسز کی قربانی کا نتیجہ ہے بلکہ عوام کے شعور، تعاون اور حب الوطنی کے جذبے کا بھی ثبوت ہے۔ شہداء کی قربانی اور فورسز کی ہمت ایک روشن مثال ہے کہ وطن کی حفاظت کے لیے ہر شہری کو اپنا حصہ ادا کرنا چاہیے۔ امن قائم رکھنا ایک مسلسل مشکل کام ہے، جس میں قربانی، شعور، اتحاد اور حکمت عملی لازمی ہیں، اور پاکستان ہمیشہ کی طرح اس آزمائش سے بھی مضبوط نکلے گا۔

کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالی
تعلقہ: تحصیل ٹنڈو باگو، ضلع بدین
03333737575

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +