شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام.. تحریر :مسرت ریاض جعفری

عنوان: شہادت امیر المومنین علی السلام
تحریر: مسرت ریاض جعفری

دنیا ہے دنگ شیرِ خدا کے شکار سے
مارا ہے حسبُنا کو بھی فُزتُ کے وار سے
(عمار یاسر مگسی)

کعبہ میں ولادت مسجد میں شھادت خدا کی قسم علئ کامیاب ہوا۔

علی کا آخری جملہ ہمیں بتا رہا ہے کہ علی تو ہوتا ہی وہ ہے جو کامیاب رہتا ہے۔ مسرت کی طرف سے غمگین سلام سب کو ان غمگین ایام و صیام میں۔

میں امید کرتا ہوں تمام بہن بھائی خیر و عافیت سے ہوں گے اور اللہ پاک کی حفظ و امان میں ہوں گے۔

اس شھر رمضان میں شہادت امام مسرت کی طرف سے غمگین سلام
غمگین ایامِ صیام میں تمام اہل اسلام کو سلامِ غم ۔
خدا کے محبوب کا محبوب علی علیسلام ،ایمان کی کسوٹی علی ،علی وہ عابد جس پر عبادت کو ناز ،علی وہ شجاع جس پر شجاعت کو ناز ،علی وہ ساجد جس پر سجدے کو ناز ،علی وہ ولی جس پر ولائت کو ناز ،علی وہ عالم جس پر علم کو ناز،علی وہ سخی جس پر سخاوت کو ناز ،علی وہ عادل جس پر عدل کو ناز اور علی وه سپہ سالار جس پر سپاہ کو ناز ۔۔

علی علیسلام ہی وہ انمول شخصیت جس کے بارے میں عیسائی مذہب کے سکاٹش فلسفی و مضمون نگار تھامس کارلائل کہے کہ کاش مسلمان مولا علی علیسلام کو تلوار دے کر میداں میں کھڑا نہ کرتے بلکہ ممبر پاک پر بیٹھا کر صرف وعظ و نصیحت سنتے تو آج کسی بھی میدان میں پوری دنیا کو ریسرچ کی بھی ضرورت نہ پڑتی باب العلم کے هوتے ھوئے ۔۔۔

سرخ دستار کو ہاتھوں پہ اٹھا کر ذاکر
روئی پردیس میں اولاد علی عید کے دن میں
(ذاکر حسین خان )
شہادت امیر المومنین امام المتقین قاتل المشرکین فاتح خیبر ، شیر غضنفر داماد پیغمبر مولود کعبہ کل ایماں شیر یزداں،عین الللہ وجہ الللہ
زھرا سلام اللہ علیہا کے شوھر کعبے کے گوھر
والد حسنین و شریفین والی نجف، استاد جبرائیل کے مختلف القاب سے مشہور و معروف اسلامی ہیرو مولا کائنات کے بارے میں رسول ﷺ نے فرمایا: “جس جس کا میں مولا، اس اس کا علی مولا”۔
آپ کے فضائل و مصائب کے حوالے سے ذکر و اذکار کرنے لگا ہوں۔ جس کے بارے میں رسول ﷺ نے فرمایا: “میں علم کا شہر ہوں تو علی اس کا دروازہ ہے”۔ حق علی کے ساتھ ہے اور علی حق کے ساتھ ہے۔ علی کا نام لینا عبادت ہے۔

رسول ﷺ نے فرمایا کہ علی علیسلام کی محبت ایمان اور ان سے بغض منافقت ھے ۔
آپ 13 رجب المرجب 600 عیسوی اور ہجرت کے 23 سال قبل ولادت و باسعادت ظہور و پرنور ہوا۔ مختلف روایات کے مطابق آپ نے 87 کے لگ بھگ جنگیں لڑیں اور ہر جنگ میں فتح یاب ہو کر واپس آئے۔
04ہجری میں 19 رمضان المبارک کو اسلامی ملک عراق کے شہر کوفہ کی مسجد کوفہ میں فجر کی نماز کی اذان دی اور دوسری رکعت میں عبدالرحمان بن ملجم لعین نے آپ پر ایسی کاری ضرب لگائی زہر آلود تلوار سے کہ آپ مدہوش ہو گئے۔

جب گردنیں جھکی ہوں تو سر کاٹتے ہیں لوگ
جھکتا نہیں وہ سر جو صدا سرفراز ہو
سر کاٹنا علئ کا تو ممکن ہی نہیں تھا
قاتل بھی منتظر تھا کہ وقت نماز ہو

قاتل مسجد کے دروازے کے ایک کونے پر چھپ گیا اور مولا علی علیہ السلام کے چاہنے والوں نے گرفتار کر کے ایک ستون میں باندھ دیا۔

اسی وقت مولا علی علیہ السلام نے مختلف روایات کے مطابق حضرت مولا غازی عباس علمدار سے کہا: “بیٹا، ٹھنڈا شربت قاتل کو پلاؤ”۔ جس کی ایسی کاری ضرب تھی کہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ 21 رمضان المبارک بعد از نماز عصر جام شہادت نوش فرما گئے۔ آپ کی عمر 63 سال تھی۔

وہ جو تھا پیکرِ علم و فن اٹھ گیا
دہر سے آج خیبر شکن اٹھ گیا
(بابر علی برق)

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +