جب بیٹیاں باپ کو مشکل میں دیکھ کر خطروں سے کھیلنے لگ جاتی ہیں، ایک بہادر بیٹی کی بہادری کے چرچے

اپنے بابا کی بہادر بیٹی : ملتان میں پیش آیا یہ واقعہ کچھ ہفتے پرانا ضرور ہے لیکن بیٹی کی محبت کی ایک خوبصورت مثال ہے ۔۔۔۔ نذیر گجر صاحب آرمی ریٹائرڈ ہیں اور ملتان کینٹ میں اپنے گھر کے پاس ہی ایک جنرل سٹور چلاتے ہین انکی اہلیہ اور دو جوان بیٹیاں بھی سٹور پر انکا ساتھ دیتی ہیں واقعہ سے چند روز قبل 3 نوجوان سٹور پر آئے جنہوں نے شرٹ ٹراؤز جوگرز پہنے ہوئے تھے اور ماسک لگا رکھے تھے-

انہوں نے ہزاروں روپے کی خریداری کی اور کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کی رسید دکھا کر چلے گئے شام کو گجر صاحب اور انکی بیٹی نے حساب کتاب کیا تو کیو آر کوڈ کا لنک جعلی نکلا ۔۔۔۔ ان کے ساتھ فراڈ ہوا تھا لیکن خاموش ہو گئے ، چند روز بعد جب دکان پر نذٰر گجر اور انکی بیٹی موجود تھے-

پھر یہ نوجوان ویسے ہی حلیے میں آئے اور 20 ہزار روپے کے لگ بھگ شاپنگ کی اور دوبارہ کیو آر کوڈ دکھانے کے لیے موبائل ان صاحب کے حوالے کیا تو انہوں نے موبائل جیب میں ڈال لیا اور تینوں نوجوانوں کو پکڑ کر بٹھا لیا ، تلاشی کے دوران ایک کی جیب سے خنجر نکلا دوسرے کی تلاشی لینے والے تھے کہ اس نے پستو۔ل نکال لیا اور فا۔ئیر کردیا ، خوش قسمتی سے گجر صاحب بچ گئے-

اسی اثنا میں انکی بیٹی جو وہاں موجود تھے اس نے جھپٹا مارا اور ڈاکو سے پستول چھین لیا لیکن تینوں نوجوان انکے ساتھ دھکم پیل کرکے وہاں سے بھاگ نکلے ، نذٰیر گجر نے پولیس کو فون کیا پولیس آئی سی سی ٹی وی کیمروں کا دیکھا گیا پھر موبائل کی مدد بھی مل گئی یوں پولیس نے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ 24 گھنٹوں میں تینوں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ۔۔۔۔ اس حوالے سے نذٰیر گجر کی صاحبزادی کا کہنا تھا کہ جب میرے بابا کی جان خطرے میں تھی تو میں خاموش تماشائی کیسے بن سکتی تھی ، ہمارے بابا ایک سابق فوجی ہیں اور میں فوجی کی بیٹی ہوں میں ان حالات سے نمٹنا اچھی طرح جانتی ہوں ۔۔۔۔۔۔

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +