بالآخر ساری شرائط مان لی گئیں۔
طالبان حکومت نے دہشتگردوں کی چھٹی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
عید پر پاکستان نے 3 دن سیز فائر کا اعلان کیا تو افغانستان نے غنیمت سمجھتے ہوئے عرب کی طرف دوڑ لگا دی۔ لیکن ہمارے وزیر خارجہ پہلے ہی عرب کو بتا چکےتھے کہ اب کوئی سیز فائر نہیں ہو گا۔ لہذا ہمیں بول کر شرمندہ مت ہونا۔ جب افغانیوں نے دیکھا یہاں دال نہیں گل رہی تو پھر انہوں نے چائنہ کی طرف دوڑ لگا دی اور چائنہ کو کہا کہ 3 دن کے سیز فائر کو مستقل سیز فائر میں تبدیل کروا دیں۔ ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ ہماری سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں ہو گی جب کہ پاکستان کی دوسری شرائط بھی ماننے کو تیار ہیں۔ آپ پلیز مذاکرات دوبارہ شروع کروائے۔ لیکن پاکستان نے چائنہ کو بھی انکار کر دیا کہ اب مذاکرات کا وقت نکل چکا ہے اب کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔ چائنہ نے جب پاکستان کا یہ موقف افغان حکومت کو بتایا تو الجزیرہ کے مطابق افغان رہنما حیران و پریشان ہو گئے کہ پاکستان نے چائنہ کو بھی انکار کر دیا ہے اب کیا بنے گا۔ اس کے بعد افغانستان نے چائنہ سے دوبارہ رابطہ کیا اور کہا کہ اس بار مذاکرات چائنہ میں کر لیں گے اور آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ اور ہم تحریری طور پر تمام شرائط مان کر ہی وہاں سے اٹھے گے۔
اور بیشک آپ اس معاہدے کے ضامن بن جانا۔
چائنہ نے پھر دوبارہ پاکستان رابطہ کر کے مذاکرات کی ریکوئسٹ کی اور کہا کہ اس بار گارنٹر چائنہ ہو گا۔
آپ ایک بار میرے کہنے پر بیٹھیں۔ ظاہر ہے پاکستان اپنے دوست کی بات دوبارہ ٹال نہیں سکتا تھا اور پھر چائنہ میں مذاکرات شروع ہوئے، چائنیز میڈیا کے مطابق اس بار مذاکرات بڑے خوشگوار ماحول میں ہوئے۔ چائنیز وفد بھی مذاکرات میں شامل تھا۔ افغانستان نے پاکستان کی تقریباً تمام شرائط کو مان لیا۔۔ آج مذاکرات کا آخری دور بھی ختم ہو گیا۔ طالبان حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ افغانستان انڈیا کی خواہش پر کوئی ایڈونچر نہیں کرے گا۔