بوزنیا ۔ حسین قدرتی مناظر اور خوبصورت یادوں کا اک سفر… :تحریر : پیر_کوہ نشیں کونسلر محمد الیاس راجہ ایڈووکیٹ ووکنگ ، سرے ( انگلینڈ

بوزنیا ۔ حسین قدرتی مناظر اور خوبصورت یادوں کا اک سفر :
ووکنگ ، سرے : ناظرین کرام یوں تو شوق_آوارگی کے جذبے کا حسن پرستی سے ایک پرانا تعلق ہے اور اس تعلق کو نبھانے میں یہ ذوق ایک مشغلے کا روپ دھار لیتا ہے اور ہم جیسے سادہ لوح لوگ اس کا جلد ہی شکار ہو جاتے ہیں غالباً یہی وجہ تھی کہ اسوقت کے اڑھاہی اضلاح پر مشتعمل آزادکشمیر کے بیشتر قدرتی حسین مناظر زمانہ طالبعلمی ہی میں دیکھ کر لطف اندوز ہوا کرتے تھے ۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ :
Habits dies very hard.

آزاں بعد صحت عمر اور بفضل تعالٰی ساز گار حالات نے تکمیل ذوق میں بڑی معاونت فرماہی اور دنیا کے ایک کونے آسٹریلیا سے لیکر دوسرے اینڈ آمریکہ کینیڈا یورپین اور خلیجی ملکوں سے ہوتے ہوے کیریبینز ممالک تک کبھی فیملی اور بچوں کے ساتھ کبھی دوست احباب کے ساتھ اور کبھی کھبار کسی یورپین ٹورنگ کمپنی کے ساتھ بری بحری اور فضاہی راستوں سے ہمسفر رہے ۔ مگر اب کی بار ایک انوکھے اور انتہاہی دلچسپ دی فیملی ٹریول گروپ کے ساتھ محو_سفر ہونے کا جو موقع ملا اس کی کچھ  اپنی ہی جذویات تھیں ۔

آمیر_کاروان برطانیہ کی پہلی تاریخی شاہجہان مسجد ووکنگ کے سابق آمام اور موجودہ سول سروینٹ، میرے دیرینہ خیر خوابوں میں سے جناب سید اسد علی شاہ صاحب تھے جن کی دینی اور دنیاوی علمیت اور قابلیت کسی بھی شک و شبے سے بالا تر ہے ساتھ ہی نصف صدی سے زاہد عرصہ 1967 سے میرے گورنمنٹ ڈگری کالج میرپور آزادکشمیر کے سینئر کالج فیلو جناب نذیر احمد ڈار صاحب بمعہ اہل و عیال کا نام گروپ لسٹ میں دیکھا تو یقین ہو گیا کہ سفر انشااللہ خوشگوار رہے گا ۔

مورخہ 27 اپریل2026 بروز سوموار پہلی مہربانی چھوٹے صاحبزادے ڈاکٹر حمزہ الیاس صاحب نے یہ فرماہی کہ ابو رات گہے میں آپ کو  Stainstead
ایر پورٹ چھوڑ آونگا بوقت روانگی میاں کو کمپنی دینے کے لیے ان کی بیگم بھی تیار ہو گیں اور گپ شپ میں گھنٹوں کی مسافت کا پتہ ہی نہ چلا دوسرے دن برخردار گاڑی کی ایرپورٹ انٹری فیس ادا کیے بغیر ہی کام پہ تشریف لے گے اور تیسرے دن دس کی بجاہے ستر پونڈ ادا کیے ۔

انگریزوں کو ” اک ایتھے تے ستر آخر ” کے فارمولے کی سمجھ نہیں ہے اس لیے وہ فوری حساب چکانے کو ہی بہتر سمجھتے ہیں ۔ صبح چار بجے جب گروپ ممبران کا ایک دوسرے سے تعارف ہو رہا تھا تو میں محو حیرت تھا کہ گروپ کا ایج رینج بچپن کے پانچ سالوں سے لیکر ادھیڑ عمری کے اناسی سالوں کے خواتین و حضرات پہ مشتعمل تھا مگر شاہ صاحب کے کمال_فن نے کسی ایک کو بھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ گروپ میں مس فٹ ہے ۔

Sarajevo Intracoastal Airport
سے فارغ ہوتے ہی ہم ٹنل آف ھوپ پہنچے جہاں سے بوزنیا کے مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے گے ظلم و بربریت کے ایثار آج بھی نمایاں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اور ذھن بے ساختہ فلسطین کشمیر اور غزہ کے مسمانوں کی کسمپرسی اور خون_مسلم کی ارزانی پہ پشیمان ہوتا ہے ۔ ان کیفیات سے نکالے جانے کی غرض سے شاہ صاحب گروپ ممبران کو ملحقہ پارک دکھاتے ہوے بغرض آرام ھوٹل لے گہے ۔

میری خوش نصیبی کہ میرے رومیٹ بریڈ فورڈ کے ایک چیرٹی چیمپئن جناب حاجی نذیر حسین صاحب ٹھہرے جو صوم و صلات کے بڑے پابند اور ان کی دیکھا دیکھی ہم نے بھی خوب نیکیاں سمیٹی ۔ صحبت_صالح ترا صالح کند ۔
اہیر پورٹ کے نزدیک ہی
TUNNEL OF HOPE
میں گزارے گے وقت کے دلسوز تاثرات ابھی ذھن سے محو نہیں ہونے پاہے تھے کہ دوسرے ہی دن محترم شاہ صاحب نے ہمارے لوکل گاہیڈ محمد صالح کے مشورے سے
War history/Muslim genocide

اور سلطنت عثمانیہ کے کچھ دیگر تاریخی مقامات دکھانے کا فیصلہ کر لیا اگر ہم نے ہسٹری میوزیم اور شہدا کے اس قبرستان جہاں مسلمانوں کو کوفیوں کی طرح دھوکھے سے بلا کر ان کا قتل_عام کیا گیا فلم دیکھتے ہوے حال میں بیشتر آنکھیں اشک بار تھیں اور خواتین ایک دوسرے کو گلے لگا کر اپنے محسوس شدہ غموں میں تخفیف چا رہیں تھیں وہاں سے آگے بڑھے تو ایک ہی جگہ کم و بیش آٹھ ھزار شہدا کی قبور نے ذھنوں میں انمٹ نقوش چھوڑے ۔ افسوس کہ ظلم و بربریت کے اس عمل پہ یہود و نصارا بشمول عالمی آداروں اور غیرت سے عاری مسلمان حکمرانوں کی خاموشی  قابل مزحمت تھی ۔

بات جب حد سے آگے بڑھی تو مجاھدین جذبہ شوق شہادت سے آگے بڑھے تو بوزنین مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا اور چھپ چھپا کر سرنگوں میں پناہ گاہیں بنانے کی بجاہے کھلے عام ایک دوسرے کو خورد و نوش کی اشیاء پہنچانے لگے ۔ اگر درد و الم کی یہ داستانیں بچشم خود نہ دیکھی اور سنی ہوتی تو شاہید نہیں بلکہ یقیناً ہم قیامت صغرا کے ان المناک مناظر کو محسوس نہ کر پاتے ۔ ہماری ملاقات تو نہیں ہوہی مگر ہمیں بتایا گیا کہ اس المیے کی متاثر شدہ وہ نو بیاہتا بچیاں جن کے سہاگ اجڑ گہے ایسے بچے جنہوں نے اپنے والد کو دیکھا تک نہیں اور کہی ایسی ماہیں جن کے معصوم بچوں کو شہید کیا گیا آج بھی اس غم کو سینے سے لگاہے کسمپرسی کے دن گزار رہی ہیں ۔ اللہ پاک انہیں صبر و استقامت سے نوازیں اور ہم سب کو ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کیے جانے کی توفیق ںصیب فرماہیں ۔ آمین ۔

ناظرین کرام اگر سات روزہ اس ٹور کی پوری تفصیلات لکھنی شروع کر دوں تو وہ ایک اچھا خاصا سفر نامہ بن جاہے گا تاہم اس طوالت سے بچنے کے لیے آشارتن چند ایک مقامات کا ذکر کیے دیتا ہوں جہاں جانا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا تاریخی مقامات میں بلند و بالا پہاڑوں کی وہ برف پوش چوٹیاں بھی ہیں جہاں 1984 کی اولمپک سکینگ کا انعقاد ہوا تھا ۔ ہم تمام ساتھیوں نے پہلے ہی برفانی ٹیلے پہ جا کر پھسلن کے خطرے کو بخوبی بھانپ لیا تھا اور الٹے پاوں واپسی ہی میں عافیت جانی ۔ Pliva لیک جس کے ارد گرد گھنے درختوں سے ڈھکے اونچے پہاڑ ایک دلچسپ منظر پیش کرتے ہیں وہاں کشتی رانی کا بھی اپنا ہی ایک لطف ہے ۔ Travnik شہر جو دور عثمانیہ کا ڈیڑھ سو سال تک دارالحکومت رہا 1699 – 1850 اس کا بھی دیکھنے سے تعلق ہے ۔

Mostar old city
جا کر ہی انسان صدیوں پہلے مسلمانوں کے فن تعمیر سے متاثر ہوے بغیر نہیں رہ سکتا پتھروں سے تعمیر شدہ بغیر ستون پل ۔ بوزنیا کی پہلی تعمیر شدہ مہمند پاشا مسجد ۔ الحمدوللہ قدرت نے بڑی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے اور دوسری تاریخی مسجد میں نماز عصر کی اداہیگی اور ہر دو آمام صاحبان سے شرف ملاقات کے موقع پر ان کے حسن اخلاق سے متاثر ہوے بغیر نہیں رہا جا سکتا ۔

28 جون 1914 میں پہلی جنگ عظیم شروع ہونے کا محرک حادثہ ہنگیرین شہزادے اور اس کی شہزادی صوفیہ کا قتل بھی بوسنیا ہی میں ہوا تھا جو کہ الگ سے ایک تفصیل طلب کہانی ہے تاہم اس کے فٹ پرنٹ شامل اشاعت ہیں ۔
Sarajevo
کے قدرتی حسن و جمال کا ایک نظر جاہزہ لیے جانے کے لیے کیبل کار کی سواری لازمی قرار دی جاتی ہے جہاں سے آدمی اس بات کی تاہید کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یورپ میں سوئٹزرلینڈ کے بعد دوسرا خوبصورت مقام سارےایوو ہی ہے ۔ ٹورازم کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ھڈی کا کام کرتا ہے اور اگر مسلمان اس آرادے سے برادر اسلامی ممالک کا رخ کریں کہ ان کی آمد سے وہاں کی معیشت میں انشااللہ بہتری آے گی تو اس میں سیاحت کے ساتھ ساتھ ثواب کا عنصر بھی شامل ہو جاہیگا –

گویا آموں کے آم اور گٹھلیوں کے دام ۔ ہمارا گروپ چونکہ انتہاہی علم و دانش کے حامل خواتیں و حضرات پر مشتعمل تھا جس میں ڈاکٹر ،انجینئر،  ٹیچر ، سول سروینٹ، بینکر، شاعر، آرٹسٹ اور کامیاب ترین بزنس کمیونٹی کے سلجھے ہوے نماہندگان شامل تھے جو ایک دوسرے کی عزت و احترام اور جذبات و احساسات کا ہر اعتبار سے پوراپورا خیال رکھتے تھے ۔

یہ حسن اتفاق ہی تھا کہ ایک سینر ممبر رضااحمد صاحب بزرگی میں جن کا تیسرا یا چوتھا نمبر تھا ان کا 76 سالہ جنم دن دوران سیاحت ہی آ گیا تو ہمارے گرپ لیڈر جناب شاہ صاحب نے ھوٹل کا کانفرنس روم بک کروا کر ان کے دوستوں کے تعاون سے بھر پور یاد گار
Birthday Party
کا اہتمام کردیا جسے تمام ممبران نے خوب انجاہے کیا علاوہ ازیں بھی دن بھر کی تھکاوٹ دور کیے جانے کے لیے محفل ساز و نغمہ سجھائی جاتی رہیں ۔ اسطرح خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات و احساسات کے اس دورے جس کی قلمی طور پر شاہید صحیح عکاسی نہ ہو سکے کی کچھ منہ بولتی تصاویر بھی شامل تحریر ہیں ۔

ملک کی صفاہی ستھرائی اور باشندگان بوزنیا کے خوش آمدیدانہ رویے کی بات نہ کی جاہے تو بات بنتی نہیں ہے ۔ انتہاہی صاف ستھرا ملک واش روم اتنے ہی صاف جتنے کے گھروں کے اندر ہوتے ہیں گویا یقین ہوتا ہے کہ وہ لوگ صفاہئ کو نصف ایمان کا درجہ دیتے ہیں ۔ اللہ پاک ان پہ اپنا رحم و کرم فرمائے  اور دیگر ممالک کو ان کی تقلید کی ھدایت فرماہے ۔

ناظرین کرام آپ میں سے جو لوگ ذوق سیاحت رکھتے ہیں وہ خود بھی جاہیں اور حالات ساز گار ہونے پر بچوں کو بھی فلسطین غزہ کشمیر اور ایران کی سیاحت کی تلقین فرماہیں کہ ان ممالک کے حالات آپ کی آمد کے متقاضی ہیں ۔
آخر میں میں جناب پروفیسر راجہ یعقوب صاحب ، ڈاکٹر مرغوب صاحب ، جنرلسٹ وحید کیانی صاحب ، امریکہ سے امتیاز کمال صاحب ، صبحیہ حسن صاحبہ اور ماہر سیاحت جناب انوار ایوب راجہ صاحب کا بے حد ممنون احسان ہوں کہ یہ لوگ وٹس ایپ ، فون کالز اور فیس بک کمنٹس کے ذریعے نہ صرف مجھے مفید مشورہ جات سے نوازتے بلکہ مناسب حد تک میری حوصلہ آفزاہی بھی فرماتے رہتے ہیں ۔ دعا گو ہوں کہ رب کریم میرے خیر خواہان کے علم و عمل میں مزید رحمتیں و برکتیں عطا فرماہے ۔ اور اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین ثمہ آمین ۔
اپنی پر خلوص دعاؤں  میں ضرور یاد رکھیے گا  ۔
اللہ حافظ ۔ یار زندہ صحبت باقی ۔
وسلام ۔
تحریر : پیر_کوہ نشیں
کونسلر محمد الیاس راجہ
ایڈووکیٹ
ووکنگ ، سرے ( انگلینڈ ).

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +