سرکاری ہسپتال میں ایکسرے ڈیپارٹمنٹ” پرائیویٹ جاگیر” بن گیا، معصوم بچے کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر ورثاءسراپا احتجاج

الائیڈ ہسپتال فیصل آباد کا ایکس-رے ڈیپارٹمنٹ “پرائیویٹ جاگیر” بن گیا؛ معصوم بچے کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر عوام کا شدید احتجاج
​فیصل آباد (بیورو رپورٹ): الائیڈ ہسپتال فیصل آباد کے ایکس-رے ڈیپارٹمنٹ میں تعینات انچارج رانا تجمل اور ان کے عملے کی جانب سے انسانیت سوز غنڈہ گردی اور بدتمیزی کا شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ عملے نے ایک زخمی معصوم بچے کا ایکس-رے کرنے سے صاف انکار کر دیا اور لواحقین کے ساتھ دھمکیاں آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے گالی گلوچ کی۔
​”یہ سرکاری نہیں، ہماری پرائیویٹ مشینری ہے”: عملے کا اعترافِ جرم
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ جب چار گھنٹے انتظار کے بعد عملے سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے ڈھٹائی سے کہا کہ: “یہ الائیڈ ہسپتال کی سرکاری مشینری نہیں، بلکہ ہماری پرائیویٹ مشینری ہے جو ہم نے عوامی فلاح کے نام پر لگائی ہے، مگر اس پر اختیار صرف ہمارا ہے۔ ہم جس کا چاہیں ایکس-رے کریں، جس کا نہ کریں۔ اس کے مالکان ہمیں الگ سے تنخواہیں دیتے ہیں، یہ ہسپتال کی ملکیت نہیں ہے۔”
​قومی خزانے کو نقصان اور ذاتی مفادات کا کھیل
یہ انکشاف انتہائی تشویشناک ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں نجی مشینری لگا کر حکومتِ پاکستان کو ٹیکسوں کی مد میں اربوں کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان اداروں کا مقصد درحقیقت دوسرے ممالک سے فنڈز بٹورنا اور سرکاری سہولیات کو نجی کاروبار بنا کر غریب عوام کا استحصال کرنا ہے۔ رانا تجمل اور اس کا عملہ اپنی ان “پرائیویٹ مشینوں” کے ذریعے نہ صرف غریب مریضوں کو ذلیل کر رہا ہے بلکہ مبینہ طور پر دھونس و دھمکیاں دے کر مقدمات درج کروانے کی دھمکیاں بھی دیتا ہے۔ ذرائع کے مطابق رانا تجمل نے انتہائی تضحیک آمیز انداز میں یہ بھی کہا کہ “کیا یہ کسی فوجی کا بیٹا ہے جس کا ہم ان مشینوں پر فری ایکس-رے کریں؟”
​اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہم مندرجہ ذیل اعلیٰ شخصیات سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سنگین معاملے کی انکوائری کروائی جائے:
​صدرِ مملکتِ پاکستان، آصف علی زرداری صاحب
​چیف آف آرمی سٹاف، جنرل عاصم منیر صاحب
​چیف جسٹس، سپریم کورٹ آف پاکستان
​چیف جسٹس، لاہور ہائی کورٹ، جسٹس عالیہ نیلم صاحبہ
​وزیراعلیٰ پنجاب، مریم نواز شریف صاحبہ
​صوبائی وزیرِ صحت، پنجاب
​ایم ایس الائیڈ ہسپتال، ڈاکٹر فہیم یوسف صاحب
​آئی جی پنجاب، آر پی او فیصل آباد، اور سی پی او فیصل آباد
​ہمارا مطالبہ ہے کہ:
​الائیڈ ہسپتال سے ان تمام نجی مشینریوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے یا انہیں مکمل طور پر حکومتی تحویل میں لے کر ہسپتال کے سپرد کیا جائے۔
​رانا تجمل اور اس کے عملے کے خلاف معصوم بچے کی جان خطرے میں ڈالنے، غنڈہ گردی، اور سرکاری املاک کے غلط استعمال پر فوری مقدمہ درج کیا جائے۔
​سی سی ٹی وی فوٹیج کو بطور ثبوت قبضے میں لیا جائے۔
​یاد رہے کہ متاثرہ بچے کو بروقت امداد نہ ملنے پر شدید تکلیف میں ساحل ہسپتال منتقل کرنا پڑا، جہاں فوری آپریشن کے بعد اسے بچایا گیا۔ اگر اس واقعے کا فوری نوٹس نہ لیا گیا تو یہ عملہ کسی اور معصوم کی جان لے سکتا ہے۔ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔