ایک ملاقات جو یادگار بن گئی۔۔۔۔۔ تحریر….. پروفیسر حافظ عتیق اللہ عمر

اک ملاقات جو یادگار بن گئی۔۔۔۔۔
تحریر مسلسل
پروفیسر حافظ عتیق اللہ عمر
صحت مندر درمیانہ قد چہرے پر پھیلی مسکراہٹ اور سنجیدگی جماعت اسلامی والی داڑھی۔۔۔۔۔۔۔یہ تھے امیر العظیم رحمۃ اللہ علیہ
لاہور میں پیدا ہوئے اسلامیہ سکول اسکول اسلامیہ کالج سے ہوتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم پی اے کیا
سٹوڈنٹ یونین کے صدر بںنے اور بعد ازاں اسلامی جمعیت طلبہ سے متعلق ہوئے
جماعت اسلامی لاہور کی صدارت پنجاب کی نائب صدارت سے ہوتے ہوئے جماعت کے قیم اور سیکرٹری جنرل بنے
ایڈورٹائزنگ کا اپنا ذاتی کام کرتے تھے
جماعت کے چار امرا کے ساتھ کام کیا
قاضی حسین احمد رحمت اللہ علیہ مولانا منور حسن رحمت اللہ علیہ مولانا سراج الحق حفظہ اللہ تعالی اور حافظ نعیم الرحمن حفظ اللہ تعالی
جامعہ تنویر القران ملتان چونگی لاہور کی سالانہ تقریب بخاری کے موقع پر میری صرف ان سے ایک ملاقات ہوئی
جو اخری ملاقات ثابت ہوئی اور یادگار بن گئی
جس میں انہوں نے
1میری ذات تعلیم اور بالخصوص بیماری شوگر کے بارے میں تفصیل سے پوچھا اور نصیحت فرمائیں
2میرے والد مرحوم مولاناانعام اللہ ناظریزدانی رحمتہ اللہ علیہ کو نہ جانے کیسے جانتے تھے ان کے بارے میں بڑی دیر باتیں کرتے رہے
3میرے استاد گرامی اور مربی میاں محمد جمیل حفظہ اللہ تعالی جن کو اچھی طرح جانتے تھے ان کی طبیعت تدریس اور تصانیف کے بارے میں تفصیلا پوچھا
4میں اس وقت جمعیت اساتذہ پاکستان کا صدرتھا اس کے منشور طریقہ کار اور کارکردگی کے بارے تفصیلا آگہی حاصل کی
5جمیعت طلبہ پاکستان اور جماعت اسلامی میں اپنے سفر کے بارے میں بتا یا
6پاکستان کے حالات اور مستقبل کے بارے میں لمبی گفتگو فرمائی
میں نے اسے ایک ملاقات میں 10 باتیں نوٹ کیں 1انتہائی پڑھے لکھے انسان ہیں
2 سادہ طبیعت ہین 3نمازی اور پرہیزگار ہیں 4 محنتی ادمی بیں
5 علماء سے روابط ہیں 6تحریکی اور فکری لوگوں سے محبت کرتے ہیں
7 اپنے کام کے بارے میں ان کا وژن بہت کلیئر ہے
8 پاکستان کے حالات کے بارے میں بہت فکر مند ہیں
9امت مسلمہ کی ہر میدان میں کامیابی چاہتے ہیں
10 پوری دنیا کے غریب لاچار اور نا دار مسلمانوں کی اواز بننا چاہتے ہیں
میری ان سے یہ پہلی ملاقات اخری ثابت ہوئی
کسی روز پتہ چلا کہ وہ 2007 سے ایک موذی مرض سے لڑ رہے ہیں انتہائی فکرمندی ہوئی
پھر پتہ چلا کہ وہ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل بن گئے ہیں بہت خوشی ہوئی
پتہ چلا کہ ان کا انتقال ہو گیاہے
انا للہ واناالیہ راجعون
تمام مکاتب فکر کے افرادنےبہت بڑے جنازے میں شرکت کی جو ان کے عظیم انسان ہونے پر گواہی تھا
اللہ تعالی ان کی اگلی تمام منزلیں اسان فرمائے
امین ثم امین