خوبرو نوجوان لڑکیوں کو ورغلا کر نکاح کا جھانسہ دے کر بیرون ملک میں غیر اخلاقی حرکات کےلئے مجبور کرنے والا گروہ منظر عام پر آگیا

*ملتان: جنوبی پنجاب کی لڑکیوں کو ورغلا کر نکاح کا جھانسہ دیکر بیرون ملک غیر اخلاقی حرکات کیلئے مجبور کرنے والا گروہ کا انکشاف*

ملتان: ملتان کی رہائشی نوجوان لڑکی درندہ گروہ کے ظلم سے تنگ آکر وطن واپس بھاگ آئی، قانونی کاروائی کیلئے پولیس سے رجوع کرلیا –

ملتان: منظم گروہ سادہ لوح لڑکیوں کو ورغلا کر نکاح کا جھانسہ دیکر جنوبی پنجاب سے متعدد لڑکیوں کو سعودی عرب لیجا کر غیر اخلاقی حرکات کیلئے مجبور کر پیسے کماتے ہیں۔ متاثرہ لڑکی

ملتان: میرے سمیت جنوبی پنجاب کی متعدد لڑکیاں اس گروہ کی درندگی کا نشانہ بن رہی ہیں۔ متاثرہ لڑکی

ملتان: شیخوپورہ کا رہائشی شفیق نامی شخص مجھے ورغلا کر اس گروہ میں لے گیا، مجھے غیر اخلاقی حرکات پر مجبور کر کے پیسے کماتے رہے۔ متاثرہ لڑکی

*ملتان: میں نے انصاف کیلئے پولیس تھانہ بی زیڈ ملتان کو بھی درخواست دی’ عدالت میں بھی کیس دائر کیا ہوا ہے۔ متاثرہ لڑکی*

ملتان: ملزم بااثر ہیں’ آئے روز گھر آ کر ہراساں کرتے ہیں، بدمعاش لیکر گھر پر قبضہ کی کوشش کرتے ہیں۔ متاثرہ لڑکی

ملتان: حکومت پاکستان اور پنجاب حکومت اس معاملے کا فوری نوٹس لیکر مجھے انصاف دلوائیں اور ملزمان کے خلاف کاروائی کی جائے۔ متاثرہ لڑکی کا مطالبہ

نوجوان لڑکیوں کو بیرون ملک غیر اخلاقی سرگرمیوں میں دھکیلنے والا گروہ بے نقاب کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی سنگین اور پریشان کن خبر ہے جو انسانی اسمگلنگ کے کالے دھندے کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ گروہ معصوم لڑکیوں کو بہتر مستقبل، ملازمت یا دیگر پرکشش مواقع کا جھانسہ دے کر بیرون ملک لے جاتا تھا اور وہاں انہیں ان کی مرضی کے خلاف ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مجبور کرتا تھا جو غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہیں۔ یہ نہ صرف ان لڑکیوں کی زندگیوں کو تباہ کرنے کا باعث بن رہا تھا بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی تھی۔
تحقیقات کے مطابق، یہ گروہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کام کر رہا تھا اور اپنے مکروہ عزائم کے لیے جدید طریقوں کا استعمال کر رہا تھا۔ اس کی گرفتاری سے نہ صرف ان لڑکیوں کو انصاف ملے گا جو اس کا شکار ہوئیں، بلکہ یہ دوسرے ایسے گروہوں کے لیے بھی ایک سبق ثابت ہو گا جو اس طرح کے غیر قانونی کاموں میں ملوث ہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں اور خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کی حفاظت کے لیے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں سے قریبی تعلقات استوار کریں اور انہیں ایسے خطرات سے آگاہ کریں۔ اس کے علاوہ، حکومت کو بھی ایسے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے اور ایسے قوانین وضع کرنے چاہئیں جو انسانی اسمگلنگ اور اس سے متعلقہ جرائم کو مؤثر طریقے سے روک سکیں۔

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +