ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو محمد جواد حیدر شاہ، انسانی خدمت کی جیتی جاگتی مثال ،تحریر :حبیب منظر مھدی

ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو محمد جواد حیدر شاہ،
انسانی خدمت کی جیتی جاگتی مثال!

تحریر: کالم نگار حبیب منظر 03027691808
ڈی سی آفس میں لوگ آسانی سے آ سکتے ہیں، مگر آپ کے دفتر میں دربان انہیں اندر کیوں نہیں آنے دیتے؟
ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو محمد جواد حیدر شاہ کا ایک ماتحت ادارے کے سربراہ سے یہ فون پر وہ چونکا دینے والا سوال تھا جس نے دفتر میں موجود ہر شہری کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ۔۔۔۔۔۔ ؟

بلا شبہ عہدے اور اختیارات تو بہت سے لوگوں کے پاس ہوتے ہیں، مگر ان اختیارات کو دکھی انسانیت کی خدمت، مظلوموں کی داد رسی اور محروم طبقات کی مشکلات دور کرنے کے لیے استعمال کرنا ہر کسی کے حصے میں نہیں آتا۔ بعض شخصیات اپنے کردار، حسنِ اخلاق اور عوام دوستی سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو محمد جواد حیدر شاہ کے دفتر میں عوامی مسائل کی سماعت اور سائلین کے ساتھ حسنِ سلوک کا مشاہدہ بھی ایک ایسا ہی مثبت تاثر چھوڑتا ہے۔

گزشتہ روز سینیئر صحافی شیخ محمد حسین کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر آفس کوٹ ادو جانے اور چند ساعتیں وہاں گزارنے کا موقع ملا۔ اس دوران مختلف علاقوں سے آئے شہریوں کو اپنے مسائل پیش کرتے دیکھا۔ کسی کو بچے کی ملازمت کے حوالے سے مسئلہ درپیش تھا تو کوئی اپنی زمین سے گزرگاہ کے تنازعے کے حل کی امید لے کر آیا تھا۔ کوئی مسجد کی تعمیر کی اجازت چاہتا تھا تو کوئی مجلس کے انعقاد کے سلسلے میں رہنمائی کا طلب گار تھا۔

ڈپٹی کمشنر محمد جواد حیدر شاہ سائلین کی بات توجہ سے سنتے، متعلقہ افسران سے رپورٹس طلب کرتے اور ضروری کارروائی کے لیے احکامات جاری کرتے دکھائی دیے۔ یوں محسوس ہوا جیسے ان کے دفتر کو مستقل کھلی کچہری کی شکل دے دی گئی ہو۔

اسی دوران ایک سفید ریش بزرگ شہری نے شکایت کی کہ وہ شوگر کے مریض ہیں، مگر انہیں ہسپتال سے انسولین نہیں مل رہی۔ ڈپٹی کمشنر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے فون پر متعلقہ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے جواب طلب کیا اور بزرگ کو فوری انسولین فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔ بزرگ شہری دعائیں دیتا ہوا دفتر سے رخصت ہوا۔

ایک خاتون نے عدالتی کارروائی کے لیے نکاح نامے کے چوتھے پرت کی ضرورت بیان کی اور شکایت کی کہ متعلقہ یونین کونسل سیکریٹری رجسٹر گم ہونے کا کہہ کر دستاویز فراہم نہیں کر رہا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ سیکریٹری کو ریکارڈ سمیت انکوائری کے لیے طلب کرنے کی ہدایت کی۔ اسی طرح بعض دکانداروں نے کوٹ ادو میں گرین الیکٹرک بس اسٹاپ سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی، جنہیں توجہ سے سنا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی جانب سے شہریوں کو سستی، آرام دہ اور جدید سفری سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کو بھی سراہا گیا۔

دفتر میں سرکاری اراضی پر مبینہ ناجائز قبضوں کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ریاستی املاک کے تحفظ کے لیے انتظامیہ کی معاونت کرنے والے شہریوں کو سراہا۔ بلاشبہ، سرکاری زمینوں کا تحفظ اور شہریوں کے جائز حقوق کی پاسداری ایسے معاملات ہیں جن میں شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کوٹ ادو جنوبی پنجاب کا ایک نوزائیدہ ضلع ہے، جسے 14 اکتوبر 2022 کو ضلع کا درجہ دیا گیا اس میں دو تحصیلیں صدر مقام تحصیل کوٹ ادو اور تحصیل چوک سرور شہید شامل ہیں جہاں بنیادی ڈھانچے کی کمی، سرکاری دفاتر کی تعمیر، فنڈز اور دیگر انتظامی مسائل جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔

اس کے باوجود ضلع کی ترقی کے لیے سیوریج نظام کی بہتری، محمود کوٹ تا لال پیر روڈ کی کشادگی، قصبہ گجرات میں ریسکیو سروسز کی فعالیت، ڈپٹی کمشنر آفس کی تعمیر، سناواں میں سہولت بازار اور بستی کھگ میں سیوریج اسکیم و ڈسپوزل اسٹیشن جیسے منصوبوں کی بروقت تکمیل اہمیت رکھتی ہے۔ ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی نگرانی، ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صفائی کے انتظامات اور پارکوں کی تعمیر بھی عوامی فلاح کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہیں۔

جن پر بغیر کسی تاخیر کے تعمیراتی کام جاری ہے
ڈپٹی کمشنر محمد جواد حیدر شاہ کی ترجیحات میں تعلیم و صحت کی سہولیات کی بہتری، کاروباری سرگرمیوں کا فروغ اور شہری مسائل کا بروقت حل شامل بتایا جاتا ہے۔ تاہم کسی بھی انتظامی افسر کی کارکردگی کا اصل پیمانہ اعلانات نہیں بلکہ عملی نتائج، منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عام شہری کو ملنے والا ریلیف ہوتا ہے۔

بلاشبہ، جب اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز افسران دیانت داری، فرض شناسی، میرٹ اور عوامی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں تو سرکاری اداروں پر شہریوں کا اعتماد بڑھتا ہے۔ کسی بیمار کو بروقت دوا دلوانا، کسی خاتون کی جائز شکایت پر کارروائی کرنا اور کسی مجبور شہری کی فریاد سننا بظاہر چھوٹے اقدامات ہیں، مگر متاثرہ افراد کے لیے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے مواقع پر چہروں پر آنے والی مسکراہٹیں اور دل سے نکلنے والی دعائیں ہی عوامی خدمت کا حقیقی سرمایہ ہیں۔

ڈپٹی کمشنر آفس کوٹ ادو میں اوپن ڈور پالیسی کے تحت سائلین کی سماعت کا مشاہدہ خوش آئند ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام دوستی کا یہ رویہ ضلع کے تمام سرکاری دفاتر میں بھی فروغ پائے، شہریوں کو سفارش کے بغیر اپنے جائز کام کروانے کی سہولت ملے اور ہر درخواست پر میرٹ کے مطابق بروقت کارروائی ہو۔
کیونکہ کسی بھی افسر کی اصل پہچان اس کا عہدہ یا اختیارات نہیں، بلکہ عام آدمی کو ملنے والا انصاف، عزت اور ریلیف ہوتا ہے۔ اگر یہی جذبۂ خدمت میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے ساتھ جاری رہے تو کوٹ ادو کو ایک بہتر، منظم اور عوام دوست ضلع بنانے کی منزل قریب آ سکتی ہے۔

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +