دہشتگردوں کا انجام: بلوچستان کی مٹی دشمن کے لیے قبر بن گئی.!! ****** :کالم نگار غلام مصطفیٰ جمالی

دہشتگردوں کا انجام: بلوچستان کی مٹی دشمن کے لیے قبر بن گئی.!!!

کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالي
تحصيل ٽنڊوباگو، ضلع بدين
فون: 03333737575

بلوچستان، جو اپنی وسعتوں میں خاموشی، پہاڑوں کی بلندی اور صحرا کے صبر کا سبق سموئے ہوئے ہے، آج بھی پاکستان کے قومی ضمیر کے لیے ایک امتحان بن چکا ہے۔ یہ زمین، جو قدرتی وسائل، ثقافت، تاریخ اور قربانیوں سے مالا مال ہے، آج دشمن کی پراکسی قوتوں کے لیے ایک اہم محاذ بن گئی ہے۔ ہرنائی اور پنجگور کے بلند و بالا پہاڑوں میں ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز، جو 29 جنوری 2026 کو کیے گئے، صرف ایک خبر نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے دفاع، حکمت عملی اور قوم کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، دو الگ الگ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 41 دہشتگرد ہلاک کیے گئے، جو فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان جیسی بھارتی پراکسی تنظیموں سے تعلق رکھتے تھے۔ پنجگور میں 11 اور ہرنائی میں 30 دہشتگردوں کو نشانہ بنانا صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ یہ پیغام ہے کہ ریاست اپنی سیکیورٹی، حکمت عملی اور قومی عزم میں مضبوط کھڑی ہے۔ دہشتگردی صرف ایک خطرہ نہیں، بلکہ یہ ایک بیماری ہے جو ریاست کے بنیادی ڈھانچے، امن کی کوششوں اور عوام کی زندگی پر حملہ کرتی ہے، اور بلوچستان جیسی حساس سرزمین پر اس کا سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے۔

پہلا آپریشن ہرنائی میں کیا گیا، جہاں فتنۃ الخوارج کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ سیکیورٹی فورسز کا مقصد صرف دہشتگردوں کو ختم کرنا نہیں تھا، بلکہ ان کے منصوبے، تربیت اور پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کرنا بھی تھا۔ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 30 بھارتی سرپرستی والے خوارج مارے گئے۔ فورسز نے نہ صرف انہیں ختم کیا بلکہ بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا اور موقع پر تلف کر دیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ آپریشن صرف سطحی سطح پر نہیں بلکہ اندرونی منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کے تحت کیا گیا۔

دوسرا آپریشن پنجگور میں کیا گیا، جہاں فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 11 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران نہ صرف اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا بلکہ 15 دسمبر 2025 کو پنجگور میں ہونے والی بینک ڈکیتی سے لوٹی گئی رقم بھی حاصل ہوئی، جو ظاہر کرتا ہے کہ دہشتگرد صرف ہتھیار تک محدود نہیں تھے بلکہ سماجی اور اقتصادی نقصان پہنچانے کے لیے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ہلاک دہشتگرد ماضی میں کئی دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث رہے، جس کی وجہ سے سیکیورٹی فورسز کے لیے انہیں نشانہ بنانا ایک اہم ترجیح تھا۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں ریاست کے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہیں۔ یہ آپریشنز صرف دہشتگردوں کو ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان میں امن، استحکام اور ریاستی اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے کیے گئے۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانی ہر پاکستانی کے لیے قابلِ قدر ہے، کیونکہ یہ نوجوان اپنی جان خطرے میں ڈال کر ملک کو محفوظ بنا رہے ہیں۔

بلوچستان میں دہشتگردی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ علاقہ سالوں سے غیر ملکی ہاتھ، علیحدگی پسند سوچ، محرومی کی سیاست اور مسلح گروہوں کا مرکز رہا ہے۔ ہر آپریشن کے بعد سوال اٹھتے ہیں، ہر کارروائی کے بعد بحث شروع ہوتی ہے، اور ہر بیان کے ساتھ شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ریاست کی سلامتی کو براہِ راست نشانہ بنایا جائے، جب معصوم لوگوں، مزدوروں، سیکیورٹی اہلکاروں اور ترقیاتی منصوبوں پر حملے کیے جائیں، تو خاموش رہنا ریاست کی کمزوری سمجھا جائے گا۔

فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان جیسی پراکسی تنظیموں کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا ہے۔ بلوچستان جیسا حساس صوبہ، جہاں پہلے ہی محرومی، پچھڑی ہوئی ترقی اور سیاسی بے چینی موجود ہے، ان عناصر کے لیے بھرتی کرنا آسان بناتا ہے۔ دشمن جانتا ہے کہ بندوق سے زیادہ خطرناک مایوسی ہوتی ہے، اور جب مایوسی کو ہتھیار مل جائیں تو ریاست کے لیے چیلنج بڑھ جاتا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیاں یہ پیغام دیتی ہیں کہ پاکستان صرف ردعمل تک محدود نہیں رہا بلکہ خطرے کو پہلے ہی ختم کرنے کی حکمت عملی اپنا چکا ہے۔ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جدید جنگ کا اہم حصہ ہیں، جہاں دشمن کو میدان میں قدم رکھنے سے پہلے غیر موثر بنایا جاتا ہے۔ پنجگور اور ہرنائی میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اور بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر بڑی کارروائیوں کی تیاری میں تھے۔

لیکن سوال صرف یہ نہیں کہ 41 دہشتگرد مارے گئے، بلکہ یہ بھی ہے کہ یہ دہشتگرد کیسے بنے؟ کون سے عوامل نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں؟ صرف سیکیورٹی آپریشن سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ سیاسی، سماجی اور اقتصادی سطح پر بھی اقدامات کرنا ضروری ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دہشتگردی صرف بندوق سے ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کی جڑوں تک پہنچنا لازمی ہے۔

بلوچستان میں محرومی، بے روزگاری اور تعلیم کی کمی نوجوانوں کو ایسے گروہوں کی طرف کھینچتی ہے۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ ان کی زمینوں سے نکلنے والے وسائل کسی اور کے قبضے میں چلے جاتے ہیں تو مایوسی پیدا ہوتی ہے، جو دہشتگردوں کے لیے سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس لیے، سیکیورٹی آپریشنز کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی اصلاحات بھی لازمی ہیں، تاکہ نوجوانوں کو بندوق کے بجائے تعلیم، روزگار اور امید ملے۔

صدر، وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ کا خراج تحسین سیکیورٹی فورسز کی قربانی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا ثبوت ہے۔ یہ آپریشنز دکھاتے ہیں کہ پاکستان کی فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر قسم کی دہشتگردی ختم کرنے کے لیے تیار ہیں، اور وہ قوم کی حفاظت کے لیے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ قوم کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی فوج اور فورسز کے ساتھ کھڑی ہو، ان کی قربانیوں کو سمجھے اور امن کی طرف تعاون کرے۔

بلوچستان میں امن قائم کرنا صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں، بلکہ یہ سماجی اور اقتصادی ترقی کے ساتھ ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ اسکول، اسپتال، روزگار کے مواقع اور سیاسی شمولیت ایسے اوزار ہیں جو دہشتگردی کی جڑوں کو ختم کر سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو امن اور ترقی کے جذبے سے بھرنا ہی دہشتگردی کے نئے بیج اگنے سے روک سکتا ہے۔

آج جب پنجگور اور ہرنائی کے پہاڑوں میں گولیاں خاموش ہو گئی ہیں، یہ وقت ہے کہ نفرت، مایوسی اور غیر یقینی کو بھی ختم کیا جائے۔ پورے بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیے ریاست، فوج اور قوم کو مل کر قدم اٹھانے ہوں گے۔ حقیقی فتح تب ہوگی جب بلوچستان میں خوف کے بجائے اعتماد، گولی کے بجائے امن کے گیت اور مایوسی کے بجائے امید حکمرانی کرے۔

دہشتگردوں کا انجام، جو بلوچستان کی مٹی میں دفن ہو گئے، ایک پیغام ہے کہ ریاست اپنی عوام کی حفاظت کے لیے ہر قدم اٹھا رہی ہے۔ یہ نتیجہ صرف ایک آپریشن کا نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی، قومی عزم اور قوم کی قربانی کا ثبوت ہے۔ بلوچستان کے ہر بچے، نوجوان اور عورت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ امن صرف حکومتی اعلان سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور، قربانی اور ذمہ داری کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔

پاکستان کی عوام، فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیاسی قائدین ایک عزم پر کھڑے ہیں: دہشتگردی کا مکمل خاتمہ۔ بلوچستان کے پہاڑوں میں دفن دہشتگردوں کا انجام، صرف ان کے لیے عبرت نہیں بلکہ ہر اس سوچ کے لیے پیغام ہے جو پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔

بلوچستان کی مٹی، جو اب دہشتگردوں کے لیے قبر بن گئی ہے، مستقبل میں امن، استحکام اور ترقی کی علامت بنے گی۔ ریاست، قوم اور فوج مل کر امن کا پیغام پہنچائیں گے، تو بلوچستان میں نہ صرف قربانیاں بلکہ امید، عزت اور امن بھی نظر آئے گا۔

آخرکار، یہ واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے: دہشتگردی کے مقابلے میں عزم، قربانی، حکمت عملی اور قوم کا اتحاد ہی اصل طاقت ہے۔ بلوچستان کی مٹی میں دفن دہشتگردوں کا انجام پیغام ہے کہ ریاست ہر خطرے کو ختم کرنے کے لیے تیار ہے، اور عوام کو امن کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +