پردۂ فریب اُتارا گیا
اسلام آباد میں ہونے والا دھماکہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ غیر معمولی ضرور ہے کیونکہ کسی بھی مہذب اور جواب دہ ریاست میں کسی سانحے کے بعد سب سے پہلا کام بروقت اور شفاف اطلاع دینا ہوتا ہے پھر غیر جانب دار تحقیق اور آخر میں واضح احتساب مگر ہمارے ہاں یہ ترتیب مسلسل الٹ دی جاتی ہے پہلے خاموشی پھر مبہم بیانیہ اور آخر میں اجتماعی فراموشی اور یہ محض کسی ایک واقعے یا کسی ایک حکومت کی ناکامی نہیں بلکہ ایک مستقل ریاستی رویہ ہے جو ہر بحران میں پوری شدّت سے دہرایا جاتا ہے کیونکہ ریاست بخوبی جانتی ہے کہ جیسے ہی کسی واقعے کو سیکیورٹی فیلئر تسلیم کیا جائے گا ویسے ہی سوالات جنم لیں گے اور سوالات کے بعد ذمہ داریاں طے کرنا ناگزیر ہو جائے گا –
اسی لیے اصل کوشش یہ ہوتی ہے کہ واقعہ تعریف یعنی Definition کے مرحلے میں ہی قابو کر لیا جائے اگر دھماکہ دہشت گردی کہلائے تو ناکامی ماننی پڑے گی اور اگر حادثہ تکنیکی خرابی یا غیر واضح واقعہ قرار پائے تو فائل محفوظ افسر سلامت اور نظام بے داغ رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں معلومات کو یا تو روکا جاتا ہے یا دانستہ طور پر نامکمل رکھا جاتا ہے الیکٹرانک میڈیا کی خاموشی کسی اخلاقی الجھن کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم انتظار ہوتی ہے انتظار اس بات کا کہ اوپر سے قابلِ قبول مؤقف کیا ہو گا اس دوران سوشل میڈیا وہ خلا پُر کرتا ہے جو ریاست خود پیدا کرتی ہے اور جب عوام غیر سرکاری ذرائع سے حقیقت جاننے لگیں تو مسئلہ افواہ کا نہیں رہتا بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے رشتے کے ٹوٹنے کا بن جاتا ہے-
دلچسپ اور الم ناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات معلومات موجود ہونے کے باوجود انہیں واپس لے لیا جاتا ہے بیانات بدلے جاتے ہیں ویڈیوز غائب ہو جاتی ہیں رپورٹس ایڈٹ کر دی جاتی ہیں بیوروکریسی میں اس عمل کو Damage Control کہا جاتا ہے یعنی یہ مفروضہ کہ اگر سچ کو بار بار حذف کیا جائے تو شاید اجتماعی یادداشت کمزور پڑ جائے مگر ڈیجیٹل عہد میں حذف دراصل ثبوت بن جاتا ہے یہ خاموش اعلان کہ یا تو سچ مکمل نہیں تھا یا مکمل سچ بتانے کی اجازت نہیں تھی اس مرحلے کے بعد ریاست کو ایک اور مشکل کا سامنا ہوتا ہے اور وہ ہے توجہ کو سنبھالنا کیونکہ جدید حکمرانی میں اصل طاقت حقائق سے زیادہ بیانیے کی رفتار میں ہوتی ہے –
چنانچہ قومی منظرنامے پر فوراً دیگر سرگرمیاں نمایاں ہو جاتی ہیں تقریبات کھیل تہوار بیانات اور مصروفیات سب کچھ معمول کا حصہ ہیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا سانحے کے فوراً بعد بھی ریاستی ترجیحات وہی رہتی ہیں اور اگر رہتی ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انسانی جان اب ایجنڈا سیٹر نہیں رہی یہاں مسئلہ کسی فرد کسی وزیر کسی افسر یا کسی تصویر کا نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کا ہے جس میں سوگ نجی اور تقریب ریاستی معاملہ بنا دی گئی ہے عوام جنازے اٹھاتے ہیں اور ریاست پروگرام یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاقیات طبقاتی صورت اختیار کر لیتی ہیں ایک طبقہ صبر برداشت اور خاموشی کا پابند دوسرا مصروف متحرک اور بے فکر پھر آخر میں ایک رسمی بیان جاری ہوتا ہے جس کا مقصد انصاف کا وعدہ نہیں بلکہ وقت خریدنا ہوتا ہے-
نہ کوئی واضح ٹائم لائن نہ لائحۂ عمل نہ آزادانہ تحقیقات کا اعلان اور نہ ہی تنقیدی سوالات کی گنجائش یوں سانحہ خبر سے فقرے میں فقرے سے یادداشت میں اور یادداشت سے خاموشی میں دفن ہو جاتا ہے حالانکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان پر حملہ ہو بلکہ ریاستیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب وہ اپنے شہریوں کو جواب دینا چھوڑ دیں اسلام آباد کا یہ دھماکہ بھی اسی کمزوری کی ایک اور یاد دہانی ہے اور اصل سوال یہ نہیں کہ حملہ کس نے کیا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم کبھی ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ سکیں گے جو سچ سے خوف زدہ نہ ہو سوال کو بغاوت نہ سمجھے اور انسانی جان کو محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھے کیونکہ جب تک یہ تبدیلی نہیں آتی دھماکے ہوتے رہیں گے-
بیانات بدلتے رہیں گے اور پردۂ فریب ہر بار نئے سرے سے تان دیا جائے گا ریاستی رویے کی اس تصویر کا ایک اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہاں ناکامی کو ماننے کے بجائے معمول بنا دیا گیا ہے حتیٰ کہ زبان بھی اسی معمول کا حصہ بن چکی ہے جہاں ہلاکتیں اعداد میں بدل دی جاتی ہیں زخمی محض اعداد و شمار اور متاثرہ خاندان ایک فٹ نوٹ بن کر رہ جاتے ہیں کسی بھی سانحے کے بعد اگر ریاستی مشینری کا ردِعمل خودکار اور بےحس ہو جائے تو یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ ادارہ جاتی بےحسی کی علامت ہوتی ہے کیونکہ ریاست کا اصل امتحان بحران میں ہوتا ہے-
نہ کہ تقریبات میں مگر ہمارے ہاں بحران کو بھی مینجمنٹ ایکسرسائز سمجھا جاتا ہے جہاں مقصد مسئلے کا حل نہیں بلکہ اثرات کو کم دکھانا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ تحقیقات اکثر بند کمروں میں ہوتی ہیں نتائج منظرِ عام پر نہیں آتے اور اگر آ بھی جائیں تو ان پر عملدرآمد کا کوئی قابلِ تصدیق نظام موجود نہیں ہوتا یوں انصاف ایک تصور رہ جاتا ہے اور احتساب محض لفظ کیونکہ جب ریاست خود ہی مدعی بھی ہو منصف بھی اور مختتم بھی تو سوال کرنے والا فطری طور پر مشکوک ٹھہرتا ہے اس سارے عمل میں سب سے زیادہ نقصان شہری شعور کا ہوتا ہے جو بار بار کے تضادات سے تھک کر لاتعلق ہونا سیکھ لیتا ہے-
اور یہی لاتعلقی دراصل سب سے بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے کیونکہ خاموش معاشرہ سوال نہیں کرتا اور جو سوال نہ کرے اس پر حکمرانی آسان ہو جاتی ہے مگر یہ آسانی عارضی ہوتی ہے کیونکہ دبائے گئے سوال وقت کے ساتھ جمع ہوتے رہتے ہیں اور پھر کسی ایک دھماکے میں صرف بارود نہیں پھٹتا بلکہ برسوں کا اعتماد بھی بکھر جاتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ طاقت کے تاثر سے چلنا چاہتی ہے یا سچ کی ذمہ داری سے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت وقتی خوف تو پیدا کر سکتی ہے مگر پائیدار استحکام صرف جواب دہی سے جنم لیتا ہے-
اور جب ریاست اپنے شہریوں کو محض رعایا سمجھنے لگے تو ہر سانحہ ایک وارننگ بن جاتا ہے جسے نظرانداز کرنا بالآخر خود ریاست کے وجود کو کمزور کر دیتا ہے اگر یہی طرزِ عمل اسی طرح چلتا رہا اور ہر سانحے کو چند رسمی بیانات، نمائشی افسوس اور دانستہ خاموشی کے ذریعے نمٹا جاتا رہا تو اس کے نتائج محض وقتی تنقید تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ریاست کو سیاسی، اخلاقی اور سماجی سطح پر ایسے نقصانات اٹھانا پڑیں گے-
جن کی تلافی ممکن نہیں ہو گی کیونکہ ریاست کی اصل طاقت اسلحہ، قوانین یا بیانیوں میں نہیں بلکہ شہریوں کے اعتماد میں ہوتی ہے اور جب یہ اعتماد بار بار ٹوٹے تو ریاست محض ایک انتظامی ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے جس سے لوگ جڑے نہیں رہتے بلکہ صرف برداشت کرتے ہیں ایسی صورت میں شہری خود کو محفوظ نہیں بلکہ غیر متعلق محسوس کرنے لگتے ہیں اور یہی احساس بتدریج بیگانگی میں بدل جاتا ہے میں اس پورے رویے کی کھلے اور واضح الفاظ میں مذمت کرتا ہوں کیونکہ یہ صرف ناقص حکمرانی نہیں بلکہ انسانی جان کی توہین ہے انسانیت کا خون اتنا سستا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہر دھماکے کے بعد ایک مبہم وضاحت، ایک متضاد بیان یا ایک عارضی خبر میں تحلیل ہو جائے ہر وہ لاش جس کے بارے میں سوال نہ اٹھے ریاست کے دامن پر ایک خاموش قرض بن جاتی ہے –
اور یہ قرض وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ریاست خود اس کے بوجھ تلے دبنے لگتی ہے اگر آج بھی سچ کو مؤخر، شفافیت کو غیر ضروری اور جواب دہی کو خطرہ سمجھا جاتا رہا تو کل اس کی قیمت صرف متاثرہ خاندان نہیں بلکہ پورا معاشرہ ادا کرے گا کیونکہ جب انصاف مؤخر ہو تو عدم تحفظ مستقل بن جاتا ہے اور جب عدم تحفظ معمول بن جائے تو قانون، اخلاق اور ریاستی رِٹ سب کمزور پڑ جاتی ہیں یہ محض ایک دھماکے کی بات نہیں بلکہ ایک مسلسل زوال کی علامت ہے جس میں ہر نیا سانحہ پچھلے سے بڑا سوال چھوڑ جاتا ہے –
مگر جواب پھر بھی ندارد رہتا ہے اور اگر اس روش کو بدلا نہ گیا تو وہ دن دور نہیں جب ریاست کو سب سے بڑا نقصان کسی بیرونی حملے سے نہیں بلکہ اندر سے ٹوٹتے ہوئے اعتماد اور ختم ہوتی ہوئی اخلاقی ساکھ سے پہنچے گا کیونکہ جو نظام اپنے شہریوں کی جان کی حرمت کو اولین قدر نہ بنا سکے وہ دیر یا بدیر اپنی بنیاد بھی کھو بیٹھتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسی کمزوریاں کسی ایک دن میں نہیں بلکہ مسلسل نظرانداز کیے گئے سوالوں کے نتیجے میں جنم لیتی ہیں جنہیں ہر بار وقتی بیانیوں کے نیچے دبا دیا جاتا ہے-
تحریر: ارشد نواز خان ایم فل سکالر 03021146786