اسلام تہزیبوں کی جنگ….. کالم نگار کونسلر محمد الیاس راجہ ایڈووکیٹ ووکنگ سرے انگلینڈ

السلام تہذیبوں کی جنگ
* * * * * * * * *
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد :
احکام خداوندی ہیں کہ یہود  و نصارا آپ کے دوست نہیں ہو سکتے ۔ اور اسی وجہ سے گزشتہ کہی دہاہیوں سے سامراجی اور صہیونی سازشوں کے باعث مسلمان آپس میں ہی دست و گریبان چلے آ رہے ہیں اور اسلام دشمن قوتیں اس کا بھر پور فائدہ اٹھا رہی ہیں دنیا بھر میں کوہی چار مسلم ممالک ایسے نہیں ہیں جنکا آپس میں اخلاقی ثقافتی تجارتی یا دفاعی معاہدہ ہو ۔ اب حال ہی میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان جو دفاعی معاہدہ کروایا گیا ہے بظاہر تو یہ ایک اچھا شگون نظر آتا ہے ۔

اللہ کرے میرا یہ وجدان غلط ہی ہو ۔ مگر لگتا یوں ہے کہ اس کے پیچھے بھی ایک بہت گہری سامراجی سازش موجود ہے ۔ وہ قوتیں جنہوں نے گزشتہ کہی سو سالوں سے مسلمانوں کو بیوقوف بنا رکھا ہے کہ خدا پہ بھروسہ چھوڑو اور ہم پر یقین کرو کہ طاقت کلی کے ہم مالک ہیں اور ہم ہی آپ کے ممدو و محافظ ہو سکتے ہیں اس تاثر کی بنیاد پر ہر سال اربوں ڈالر تحفے تحاہف حتی کہ سونے کے جہازوں اور تلوے چٹوانے کے علاوہ اللہ جانے اور کیا کھچ ہوتا رہتا تھا۔

الحمدوللہ کہ ایران نے اس غلط اور جھوٹھے تاثر کو پاش پاش کر کے اس کی دھجیاں بکھیر دی ہیں ۔ اس میں کوہی شک نہیں ہے کہ ایران نے اس مقصد_عظیم کو حاصل کرنے میں اپنا بھی ناقابل_تلافی نقصان کروانے کے باوجود جذبہ_ شوق_شہادت آج بھی پہلے سے بڑھ کر قاہم و داہم اور موجود ہے اور یہی مومن کی نشانی اور جذبہ_حسینی ہے ۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود_مومن
نہ مال_غنیمت نہ کشور کشاہی
جس کی ایران کو جتنی بھی داد دی جاہے اتنی ہی کم ہے ۔

ناظرین کرام بات سامراجی اور صہیونی سازشوں کی ہو رہی تھی کہ یہ اس حزیمت کے عالم میں آہندہ کیا رخ دکھاہیں گیں ۔ خلیجی ریاستوں کو اب اس چیز کا مکمل یقین ہو جانا چاہیے کہ جو اپنی اوقات سے کہیں زیادہ بناوٹی قوتیں اپنے آثاثوں کی حفاظت نہیں کر سکتیں وہ ہمارا دفاع کیا کریں گیں ¿ ۔ اس لیے اپنے اڈوں سے کسی بھی برادر اسلامی ملک پہ حملہ اور ہونے کی آجازت نہ دیں بالخصوص سعودی عرب اور پاکستانی حکام کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سعودی عرب جو تمام امت_مسلمہ کے لیے بوجہ حرمین شریفین ایک معتبر اور مقدس مقام رکھتا ہے وہاں سے کوہی بھی مذموم حرکت نہ صرف قابل_مزحمت ہو گی بلکہ مملکت_خداداد پاکستان کے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث ہو گی اور پھر 1971 کی طرح ماسواہے پشیمانی کے کھچ حاصل وصول نہ ہو گا ۔

اللہ مغفرت فرماہے مرحوم ڈاکٹر اسرار الحق صاحب کی جنکا پاکستانی نام نہاد اشرافیہ کے متعلق اکثر یہ اظہار ہوا کرتا تھا کہ یہ دنیا بھر کے منافق ترین لوگ ہیں انہیں قوم و ملت کا احساس نہیں بلکہ صرف و صرف اپنا ہی مفاد عزیز ہے حالانکہ اس وقت فارم 47 کا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھاہم جیسے درویش لوگ تو جی ایچ کیو ہو یا اسراری اشرافیہ ہو فقط دیانتدارانہ مشورہ ہی دے سکتے ہیں یا پھر حضرت_علامہ کے اس خواب کی شرمندہ_تعبیر ہونے کی دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ :
عزاہم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاہ_مسلمان کو تلوار کر دے !
آمین ثمہ آمین ۔
تحریر : کونسلر محمد الیاس راجہ
ایڈووکیٹ
ووکنگ ،سرے( انگینڈ )
پیر_کوہ نشیں ۔

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +