بدبخت ماں کے ہاتھوں زبح ہونے والے معصوم بچے سپرد خاک

شادی شدہ خاتون کا انتہائی افسوس ناک اقدام، زندگی بھر کا پچھتاوا بن گیا ،لاہور میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ جن کے بارے میں تمام تفصیلات سامنے آچکی ہیں کہ کس طرح ایک سنگ دل ماں نے مبینہ طور پر ایک شخص سے محبت کی خاطر نہ صرف اپنے جگر کے ٹکڑوں کو زبح کرکے وہ سنگین جرم کا اعتراف کر لیا ہے، پولیس مبینہ عاشق کو بھی گرفتاری کےلیے چھاپے مار رہی ہے –

ایک پڑھی لکھی خاتون کا اپنے خاوند کے ساتھ مزید نہ رہنے کا فیصلہ ،تین بچوں کی قاتلہ کے اس اقدام نے نہ صرف اسے زندگی بھر کے لیے پابند سلاسل کر دیا بلکہ ایک ایسا روگ بھی مل گیا جو آخری سانسوں تک رہے گا –

:لاہور میں سنگدل ماں کے ہاتھوں قتل ہونے والے تین معصوم بچوں کی میتیں آبائی شہر جھنگ پہنچ گئیں، نماز جنازہ ادا کر دی گئی، رشتہ دار اور اہل علاقہ غم سے نڈھال، فضا سوگوار

گزشتہ روز لاہور کے علاقے اچھرہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں مبینہ طور پر ایک ماں نے اپنے ہی تین کمسن بچوں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں پانچ سالہ مومنہ بتول، چار سالہ مومن رضا اور دو سالہ ام حبیبہ شامل ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں سوگ کا سماں تھا اور ہر آنکھ اشکبار ۔

تینوں بچوں کی میتیں ان کے آبائی علاقے محلہ سجادیہ پہنچتے ہی کہرام مچ گیا۔ اہل خانہ، عزیز و اقارب اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد موقع پر موجود تھی، ہر شخص غم سے نڈھال دکھائی دے رہا تھا جبکہ فضا سوگوار ہو گئی۔تینوں بچوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، ہر آنکھ نم تھی اور لوگ اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے رہے۔ بعد ازاں بچوں کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔

‏اُس بدبخت عورت نے تین دن پہلے چاقو خریدا
‏یہ غصہ نہیں تھا، یہ منصوبہ تھا
‏لاہور اچھرہ سانحے کی پوری کہانی جو آپ کا دل ہلا دے گی

‏لاہور کے اچھرہ محلے میں 23 اپریل 2026 کو جو کچھ ہوا، وہ صرف جرم نہیں وہ اک آئینہ ہے جس میں پوری قوم کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے
‏شاہ جمال مشاءاللہ پلازہ کے اک بند فلیٹ میں تین معصوم بچے اپنے ہی خون میں لتھڑے ملے پانچ سالہ مومنہ بتول، چار سالہ مومن رضا، اور ڈیڑھ سال کی ننھی امِ حبیبہ تینوں کو دھار دار ہتھیار سے ذبح کیا گیا تھا
‏اس وقت جب پورا لاہور اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف تھا ‏تین پھول جو ابھی کھلنا بھی نہ سیکھے تھے، ہمیشہ کے لیے مرجھا گئے
‏ابتدائی اطلاع یہ تھی کہ والدین گھر میں تالہ لگا کر قریبی میڈیکل اسٹور گئے تھے، واپسی پر بچے مردہ ملے
‏پہلی نظر میں یہ اک اندھا قتل لگا
‏پولیس نے فوری طور پر چچا کو حراست میں لیا، محلے میں خوف و ہراس پھیل گیا لیکن تفتیش کاروں کی آنکھ نے جو دیکھا، وہ اس کہانی سے بالکل مختلف تھا جو بیان کی جا رہی تھی بیانات میں تضادات تھے موقع واردات پر شواہد چھیڑ چھاڑ کی نشاندہی کر رہے تھے، اور CCTV فوٹیج نے وہ سچ سامنے رکھ دیا جو چھپایا جا رہا تھا تفتیش جیسے جیسے آگے بڑھی، سچ اپنی پوری بھیانک شکل میں سامنے آیا ماں، جو نو سال سے شوہر رمضان کے ساتھ بیاہی تھی خود ہی اس قتل کی مرتکب نکلی پولیس کے مطابق اس نے تین دن پہلے نیا چاقو خریدا تھا
‏یعنی یہ جذبات کی آندھی میں اٹھایا گیا قدم نہیں تھا یہ سوچا سمجھا قتل تھا
‏جرم کے بعد اس نے اک مکمل ڈرامہ رچایا دوائی لانے کے بہانے گھر سے نکلی، پھر شوہر کو فون کیا، الزام ساس پر ڈالنے کی کوشش کی
‏لیکن فرانزک ٹیم، CCTV، اور شواہد نے اک اک جھوٹ بے نقاب کر دیا
‏اک رپورٹ کے مطابق شوہر اس پر غلط تعلقات کے لیے دباؤ ڈالتا تھا
‏واقعے سے اک رات پہلے ساس سے شدید تلخ کلامی ہوئی تھی۔ طلاق کی کشیدگی عرصے سے چل رہی تھی
‏یہ سب حقائق ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ قتل جائز تھا یہ کبھی جائز نہیں ہو سکتا
‏لایک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ تین بالکل بے گناہ جانیں اس جنگ کا ایندھن بنیں جو دراصل بڑوں کے درمیان تھی
‏مومنہ، مومن، امِ حبیبہ — ان میں سے کسی نے کچھ نہیں کیا تھا۔ وہ صرف اس گھر میں پیدا ہوئے تھے جہاں بڑوں نے محبت کی بجائے نفرت کو پالا پاکستانی قانون کے تحت یہ واضح طور پر سزائے موت کا جرم ہے
‏انصاف کا تقاضا ہے کہ قانون اپنا پورا وزن اس معاملے میں لگائے،
‏کوئی رعایت نہ ہو، کوئی سفارش نہ چلے۔

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +