خدا کے لیے اپنی بچیوں کو محلے کی دکانوں پر اکیلا مت بھیجا کریں، چائے پتی لینے کے لیے جانی والی بچی کفن کے ساتھ گھر واپس آئی، انتہائی دلخراش واقعہ،سی سی ڈی کی بروقت کارروائی قاتل اپنے انجام کو پہنچ گیا

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02x3TJ52zYx7Gw8XDTu1ftmaimS2NjZ3DA16bedhwBnsYndhCMGvG195Sp5CY55v9tl&id=100004281420443&mibextid=CDWPTG

سات سالہ منتہا دروازے پر کھڑے چند نوٹ پکڑے جو اس کی ماں نے ابھی اسے دئیے تھے کہ کریانے کی دکان پر جاؤ اور چائے کے لیے چینی لے آؤ

منتہا نے پیسے لیئے اور قریبی دکان کی طرف روانہ ہوئی

منٹ گزرے، پھر ایک گھنٹہ، پھر دو گھنٹے لیکن منتہا گھر واپس نہ آئی تو پریشانی تیزی سے گھبراہٹ میں بدل گئی اس کے اہل خانہ نے تلاش شروع کی، رشتہ داروں کو بلایا، دوکان میں دیکھا لیکن منتہا کا کوئی پتا نہیں چلا

پورا محلہ تلاش میں شامل ہوگیا

پولیس نے قریبی کاروباری مراکز سے CCTV فوٹیج کی جانچ شروع کی پھر ایک پریشان کن انکشاف ہوا

کیمروں نے منتہا کو گروسری اسٹور میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا لیکن اسکے وہاں سے نکلنے کی کوئی فوٹیج نہیں تھی

تفتیش کاروں نے فوراً اپنی توجہ عمارت پر مرکوز کر دی، پولیس نے ہر کمرے، ہر کونے اور ہر منزل کی تلاشی لی

تلاشی کے دوران حکام نے مبینہ طور پر عـمارت کی بالائی منزل پر ایک بوری کے اندر چھپائی ہوئی منتہا کی لاش دریافت کی

شہر کا شہر ہکا بکا رہ گیا ایک شخص اتنا گھٹیا کیسے ہوسکتا ہے؟؟؟

سات سال کی بچی کو مار ڈالا

کیا یہ لوگ قیامت دن سے نہیں ڈرتے؟؟ قبر کی اندھیروں سے نہیں ڈرتے؟؟ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے؟؟

کوئی اتنا گھٹیا کیسے ہوسکتا ہے ؟

باقی تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ ہر طرف جانور گھوم رہے ہیں البتہ آپ لوگوں سے ایک درخواسـت ہے کہ اپنے بچوں کا خاص خیال رکھیں

بچوں کے معاملے میں کسی پر بھی اعتبار نہ کریں۔۔!

سرگودھا شہر میں ایک آٹھ سالہ بچی دوکان سے سامان لینے گئی، لیکن واپس نہیں لوٹی ، جانچ پڑتال پر بچی دوکان کے گودام میں بوری میں بند مردہ پائی گئی.

تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ دوکان کے دو بیغرت ملازموں نے بچی کے ساتھ زیادتی کی اور پھر گلا گھونٹ کے مار کر بچی کے نعش اوپر گودام میں چھپا دی.

ملزمان سی سی ڈی کی تحویل میں ہیں، ایسے درندوں کو سیدھی گو لی مارنے کی بجائے انہیں عبرت ناک موت دے کر چوک چوراہے میں لٹکانا چاہیے کہ چیل کوے ان کے لاشے نوچیں اور انہیں کفن دفن بھی نصیب نہ ہو.

منتہا کی انتہا….!
😢😢
منتہا نے شاید اس صبح ناشتہ بھی نہیں کیا ہوگا۔ چائے پک رہی تھی۔ چینی لانے کے لیے ماں نے اسے قریبی اسٹور بھیج دیا۔ یہ روزمرہ زندگی کا ایک معمولی سا کام تھا۔ نہ ماں کے دل میں کوئی اندیشہ تھا، نہ باپ کے ذہن میں کوئی خوف۔ کون جانتا تھا کہ چند قدموں کا یہ سفر ان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ بن جائے گا۔ کسے پتہ تھا کہ گھر کی دہلیز سے باہر نکلنے والے یہ ننھے قدم موت کی ایسی تاریک وادی کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔
وقت گزرتا گیا مگر منتہا واپس نہ آئی۔ پہلے انتظار ہوا، پھر بے چینی، پھر خوف۔ اہلِ خانہ نے گلیاں چھان ماریں، پڑوسیوں سے پوچھا، رشتہ داروں کو فون کیے، مگر ننھی بچی کا کوئی سراغ نہ ملا۔ جب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھی گئی تو منتہا ایک دکان کے اندر داخل ہوتی نظر آئی، لیکن باہر نکلتی دکھائی نہ دی۔
پھر وہ خبر آئی جس نے پورے سرگودھا کو سوگوار کر دیا۔ ایک معصوم بچی، جو ابھی زندگی کے معنی بھی نہ سمجھ سکی تھی، درندگی اور سفاکیت کا نشانہ بن گئی۔ وہ ننھی کلی جسے ابھی کھلنا تھا، جس نے ابھی خواب دیکھنا شروع بھی نہیں کیے تھے، اسے بے رحمی سے مسل دیا گیا۔
یہ ایک بچی کی موت ہی نہیں، بلکہ اک ماں کی خوشیوں کا جنازہ ہے، ایک باپ کے خوابوں کا قتل ہے، ایک گھر کی رونق کے اجڑ جانے کا نام ہے۔ جب بھی کوئی معصوم بچہ ظلم کا شکار ہوتا ہے تو صرف ایک خاندان نہیں روتا، پورا معاشرہ کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔
دل بار بار یہ سوال کرتا ہے کہ آخر ہم کس دور میں جی رہے ہیں؟ وہ کون لوگ ہیں جن کے دل ایک معصوم بچی کی چیخوں پر بھی نہیں پگھلتے؟ وہ کون سی انسانیت ہے جو ایک ننھے وجود پر ظلم کرتے وقت مر جاتی ہے؟ ایسے واقعات صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
آج منتہا کے جیون کی انتہا ہوگئی، مگر وہ اپنے پیچھے ایک درد، ایک آہ اور ایک سوال چھوڑ گئی ہے: کیا ہماری بیٹیاں واقعی محفوظ ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا، اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی اور اپنے بچوں کے تحفظ کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ذمہ داری بنانا ہوگا۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس معصوم فرشتہ صفت بچی کو اپنی بے پایاں رحمتوں میں جگہ عطا فرمائے، اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اس کے دکھی والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اس ظلم کے مرتکب افراد کو ایسا عبرت ناک انجام دے کہ آئندہ کوئی درندہ کسی اور منتہا کی زندگی چھیننے کی جرأت نہ کر سکے۔
منتہا تو چلی گئی، مگر اس کا نام اب ہر اُس معصوم بچی کی علامت بن گیا ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری ہم سب کے کندھوں پر ہے۔

*🚨سرگودھا میں دلخراش واقعے کا ڈراپ سین، 7 سالہ بچی کو زیا، دتی کے بعد گلـہ کا، ٹ کر قت،ل کرنے والا ملزم جھال چکیاں کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں پار۔*

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500