مردہ انسانوں کا گوشت کھانے والے آدم خور دو بھائی متعدد بار سزائیں کاٹنے کے بعد رہا تو ہوگئے مگر تحفظ کی خاطر دوبارہ نظر بند کی اطلاع

بھکر: مردہ انسانوں کا گوشت کھانے والے ’آدم خور‘ بھائی رہا، تحفظ کی خاطر دوبارہ نظربند
: محمد عارف اور فرمان علی (سگے بھائی)۔مقام: یہ واقعہ پنجاب کے ضلع بھکر کے ایک گاؤں کلم کلاں میں پیش آیا۔جرم: ان دونوں بھائیوں کو قبروں سے مردے نکال کر ان کا گوشت پکانے اور کھانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پہلی گرفتاری: یہ پہلی بار 2011 میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے اور انہیں 2013 میں دو سال قید کی سزا کاٹنے کے بعد رہا کیا گیا۔دوسری گرفتاری: رہائی کے ایک سال بعد، 2014 میں انہیں دوبارہ ایک نومولود بچے کی قبر کشائی اور آدم خوری کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔دوسری اور آخری رہائی: 2014 میں دوبارہ گرفتاری پر انہیں 11 سال اور 4 ماہ کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ سزا اب مکمل ہو چکی ہے، اس لیے وہ اب جیل میں نہیں ہیں۔ وہ دوبارہ کسی نئی تاریخ پر رہا نہیں ہو رہے۔2. وہ اس وقت کہاں ہیں؟سزا مکمل ہونے کے بعد بھی ان کی موجودہ لوکیشن کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے:

عوامی ردعمل کا خوف: ان کے خلاف عوامی غصہ اس قدر شدید ہے کہ انہیں رہا کر کے ان کے آبائی علاقے (بھکر/دریا خان) واپس جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔خفیہ نگرانی یا پناہ گاہ: ذرائع کے مطابق، انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت خفیہ نگرانی (Surveillance) میں کسی نامعلوم سرکاری پناہ گاہ یا نفسیاتی مرکز (Mental Health Asylum) میں رکھا گیا ہے تاکہ معاشرہ بھی محفوظ رہے اور ان پر بھی کوئی عوامی حملہ نہ ہو سکے۔

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +