تھانہ موچیوالہ کے علاقہ چک 442 میں ظلم کی انتہا بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دئے کھیت میں۔مرغی داخل ہونے کی پاداش میں جٹ برادری کے اسلحہ کلہاڑوں درانتی سے لیس افراد کا غریب کے گھر دھاوا باپ ق ت ل بیٹے کا منکا توڑ دیا –
حالت تشویشناک عورتیں چیختی رہی ہچانے کے لیے واسطے دیتی رہے مگر ظالموں نے کوئی نہ سنی فریاد اسد اللہ قدرت اللہ رفیع اللہ سمیت درجنوں افراد تھے علاقہ کو بلوچستان بنا دیا جہانگیر وسیر جان سے گیا بیٹا شدید ذخمی قریبی چوکی سارنگ شہید چند کلومیٹر فاصلے کے باوجود اطلاع کے باوجود نہ پہنچی ایس ایچ او موچیوالہ انسپکڑغلام محی الدین موقع پر خود پہنچ کر کارروائی میں مصروف –
کلہاڑیوں کے سائے میں دم توڑتی فریاد طاقت کا زعم، غریب کا خون اور سارنگ شہید چوکی کی خاموشی
تحریر شیخ محمد عرفان گولڑوی
مرغی کا کھیت میں داخل ہونا کوئی جرم نہیں، لیکن ایک دیس میں یہ انسان کی جان لینے کا پروانہ بن گیا۔ تھانہ موچیوالہ کے چک 442 میں جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک غریب خاندان پر قیامت نہیں ٹوٹی، بلکہ ہمارے معاشرے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔
معمولی سے تنازع پر کلہاڑیوں، درانتیوں اور جدید اسلحے سے لیس درجنوں افراد کا ایک غریب کے گھر پر دھاوا بول دینا، بوڑھے باپ کو موت کے گھاٹ اتار دینا اور بیٹے کی ریڑھ کی ہڈی (منکا) توڑ دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم کس قدر وحشی ہو چکے ہیں۔ جہاں طاقتور برادری کا زعم سر چڑھ کر بول رہا ہو، وہاں قانون اور انسانیت دونوں دم توڑ دیتے ہیں۔
دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ مقتول جہانگیر وسیر کے گھر کی خواتین چیختی رہیں، واسطے دیتی رہیں، مگر ان ظالموں کے دل نہ پگھلے۔ انہوں نے علاقے کو جیسے قانون سے مبرّا کوئی دور افتادہ سنگلاخ وادی بنا دیا۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ محض چند کلومیٹر دور واقع چوکی ‘سارنگ شہید’ کو بروقت اطلاع دی گئی، لیکن مظلوموں کی پکار وہاں تک نہ پہنچ سکی۔ اگرچہ ایس ایچ او غلام محی الدین نے موقع پر پہنچ کر کمان سنبھالی، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور ایک ہنستا کھیلتا گھرانہ اجڑ چکا تھا۔
یہ واقعہ ہمارے پولیسنگ کے نظام اور معاشرتی رویوں پر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ کیا غریب کی جان اتنی سستی ہے کہ کسی پرندے کے کھیت میں جانے کی سزا موت بن جائے؟وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے اپیل ہے کہ اس بربریت کا سخت نوٹس لیا جائے۔ اسد اللہ، قدرت اللہ اور رفیع اللہ سمیت تمام نامزد ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے، اور فرض میں غفلت برتنے والے چوکی کے عملے کا بھی کڑا احتساب ہو۔ جب تک قانون کا خوف طاقتور کے دل میں پیدا نہیں ہوگا، ایسے سانحات غریبوں کے چولہے اور زندگی دونوں اجاڑتے رہیں گے۔
شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +