صرف 13 سال کی عمر، گود میں 7 ماہ کا بیٹا، اور عدالت سے انصاف کی جدوجہد…
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سے سامنے آنے والا یہ واقعہ سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 13 سالہ انامیکا اختر نے قانونی کارروائی کے بعد اپنے 7 ماہ کے بیٹے کی عارضی تحویل حاصل کر لی ہے۔

رپورٹس کے مطابق انامیکا کی ملاقات فیس بک پر 22 سالہ شکیل (شاکیب میاں) سے ہوئی، جو بعد میں تعلق اور پھر شادی تک جا پہنچی۔ بتایا جاتا ہے کہ شادی کے وقت انامیکا کی عمر تقریباً 11 سال تھی، جبکہ رواں سال ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی۔
انامیکا کا مؤقف ہے کہ بچے کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد سسرال والوں نے بچے کو اپنے پاس رکھ لیا اور انہیں گھر سے نکال دیا۔ متعدد کوششوں کے باوجود جب بچہ واپس نہ ملا تو انہوں نے یکم جولائی 2026 کو ڈھاکہ کے چیف لیگل ایڈ آفس میں شکایت درج کرائی۔
عدالت نے فریقین کو طلب کیا، تاہم عدم پیشی پر پولیس کو بچے کی بازیابی کا حکم دیا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے بچے کو بازیاب کرکے عدالت میں پیش کیا۔ 28 جولائی کی سماعت کے بعد عدالت نے عبوری طور پر فیصلہ دیا کہ بچے کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ فی الحال اپنی والدہ کے پاس رہے گا۔
عدالت نے واضح کیا کہ یہ حتمی فیصلہ نہیں بلکہ سرپرستی سے متعلق اصل مقدمہ فیملی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، جہاں آئندہ قانونی کارروائی کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب شکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ انامیکا اپنی مرضی سے اس کے ساتھ رہتی تھی اور بعد میں خود ہی گھر چھوڑ کر گئی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے بھی بچے کی سرپرستی کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔
ادھر انامیکا کی والدہ کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی کم عمر تھی، پڑھ رہی تھی، اور اسے بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ رکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر دونوں فریقین کے حوالے سے مختلف دعوے اور الزامات بھی گردش کر رہے ہیں، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ واقعہ کم عمری کی شادی، بچوں کے حقوق اور قانونی تحفظ جیسے اہم سماجی مسائل پر ایک بار پھر بحث چھیڑ رہا ہے۔
شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +