شورکوٹ ایک گیند ایک گولی ایک پورا خاندان اجڑ گیا اور ایک مردِ وفا کی مثال بن گیا میاں قمر عباس جنجیانہ سیال
کالم نگار حاجی سید عون رضا کاظمی
صدر ڈسٹرکٹ جناح پریس کلب جھنگ
جب والی بال کا تنازعہ موت کا پروانہ بن گیا تو صرف ایک شخص وفا پر کھڑا رہا میاں قمر عباس جنجیانہ سیال
اس کالم کا مخاطب
وزیر اعلیٰ پنجاب آئی جی پنجاب آر پی او فیصل آباد ڈی پی او جھنگ ڈی سی جھنگ انسانیت سے محبت کرنے والا ہر شخص ایک کھیل جو جنازہ بن گیا
تحصیل شورکوٹ موضع اپٹھ جنجیانہ
ایک شام چند نوجوان والی بال کا نیٹ
ہنسی کھیل دوستی
پھر ایک معمولی بات پر تکرار
زبان سے زبان ٹکرائی
اور پھر کسی ظالم نے والی بال کے تنازعے پر پستول نکال لیا فائرنگ کردی
گولی لگی سبطین رضا جنجیانہ سیال کو
ایک ہنستا بستا نوجوان زمین پر تڑپنے لگا معمولی جھگڑا ایک پورے خاندان کے لیے عمر بھر کا دکھ بن گیا
زندگی اور موت کی جنگ نشتر میں آخری سانسیں
زخمی سبطین رضا کو ملتان نشتر ہسپتال لے جایا گیا
ڈاکٹر کہتے رہے دعا کریں
ماں کہتی رہی میرا اکلوتا بیٹا بچا لو
بیوہ کہتی رہی میرے سہاگ کو بچا لو
دو معصوم بچیاں کہتی رہیں ابو گھر کب آؤ گے
کئی دن وہ موت سے لڑتا رہا
زخم گہرا تھا گولی جگر چیر گئی تھی
اور آج سبطین رضا زندگی کی بازی ہار گیا وہ چلا گیا ہمیشہ کے لیے پیچھے کیا رہ گیا تین جنازے ایک قبر میں
آج جب سبطین کی میت اپٹھ جنجیانہ پہنچی تو ہر آنکھ رو رہی تھی پیچھے کیا رہ گیا ایک بوڑھی ماں جس کا وہ اکلوتا بیٹا تھا جس کی لاٹھی ٹوٹ گئی جس کی آنکھوں کا چراغ بجھ گیا اب وہ کس کے سہارے جیے گی
ایک بیوہ جس کا سہاگ اجڑ گیا جس کی چوڑیاں ٹوٹ گئیں جس کی دنیا لٹ گئی دو معصوم بچیاں جو ابھی باپ کا لفظ بھی ٹھیک سے نہیں بول سکتیں جن کے سر سے باپ کا سایہ چھن گیا اب ان کو ابو کون کہے گا ایک گولی نے تین نسلوں کو مار دیا
ایک معمولی انا نے پورا گھر اجاڑ دیا اس اندھیرے میں روشنی کا واحد نام میاں قمر عباس جنجیانہ سیال
اس کہانی میں اگر انسانیت زندہ ہے تو صرف ایک شخص کی وجہ سے
میاں قمر عباس جنجیانہ سیال موضع حسووالی
جب سبطین کو گولی لگی تو قریبی عزیز بھی پیچھے ہٹ گئے
جب نشتر میں خون کی ضرورت تھی تو رشتہ دار غائب ہو گئے
جب پیسے کی ضرورت تھی تو اپنے بھی منہ موڑ گئے
لیکن ایک شخص نہیں ہٹا میاں قمر عباس جنجیانہ سیال
پہلے دن سے آخری سانس تک
دن ہو یا رات
ہسپتال کا فرش ہو یا وارڈ کا دروازہ
وہ سبطین کے سرہانے کھڑا رہا
جب ماں روئی اس نے دلاسہ دیا
جب بیوہ تڑپی اس نے بھائی بن کر سہارا دیا
جب ڈاکٹروں نے جواب دیا اس نے کندھے پر جنازہ اٹھایا یہ رشتہ دار نہیں تھا یہ خون نہیں تھا یہ انسانیت کا رشتہ تھا یہ وفا کا رشتہ تھا
آج کے دور میں جہاں سگا بھائی سگے بھائی کو چھوڑ دیتا ہے وہاں میاں قمر عباس جنجیانہ سیال نے یہ ثابت کر دیا کہ مرد وہ نہیں جو مشکل میں ساتھ چھوڑ دے مرد وہ ہے جو قبر تک ساتھ نبھائے ڈسٹرکٹ جناح پریس کلب کی مکمل ٹیم کا مطالبہ ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب اور ڈی پی او جھنگ سے
قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے اس والی بال گراؤنڈ کی غنڈہ گردی کو ختم کیا جائے اس بوڑھی ماں بیوہ اور دو یتیم بچیوں کو انصاف سرکاری نوکری اور معاوضہ دیا جائے
خراجِ تحسین میاں قمر عباس جنجیانہ سیال ولد محمد نواز موضع حسووالی کو نشانِ وفا اور انسانیت ایوارڈ سے نوازتا ہے تم نے وفا کی تاریخ لکھ دی ہے قمر عباس
جہاں سب نے ساتھ چھوڑا تم کھڑے رہے
اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا سوچو ایک گیند کی قیمت ایک جان
اے نوجوانو سنو
والی بال کرکٹ معمولی گالی معمولی انا
اس کے لیے کسی کی جان لے لو گے
آج سبطین کی دو بیٹیاں یتیم ہیں
کیا تمہاری انا اس سے بڑی تھی
ہوش کے ناخن لو
غصے کو قابو میں رکھو ورنہ ایک گولی تمہاری بھی زندگی اور آخرت دونوں برباد کر دے گی
ایک طرف قاتل ہیں جو کھیل پر جان لیتے ہیں دوسری طرف میاں قمر عباس جیسے لوگ ہیں جو جان بچانے کے لیے اپنی جان لگا دیتے ہیں فیصلہ تم نے کرنا ہے تمہیں کس صف میں کھڑا ہونا ہے سبطین رضا شہید کو سلام میاں قمر عباس جنجیانہ سیال کو سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔