*سندھ میں ایل ایل بی ڈگریوں کا تہلکہ خیز انکشاف! شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کی 1184 ڈگریاں اسکروٹنی کمیٹی نے جعلی قرار دے دیں، 17 منسلک کالجز کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیاں بے نقاب!*
`اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ وائس چانسلر کو پیش، 17 منسلک کالجز کے ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف؛ وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی رپورٹ بھیجنے کا فیصلہ`
رپورٹ *(عبد الصمدحسن صدیقی، کراچی میڈیا سرکل)*:
شاہ عبداللطیف یونیورسٹی سے منسلک کالجز کی ایل ایل بی ڈگریوں کی جانچ پڑتال کے دوران بڑے پیمانے پر مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں اسکروٹنی کمیٹی نے *1225 ڈگریوں* کی جانچ کے بعد *1184 ڈگریوں* کو `جعلی` قرار دیا ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق متعدد ڈگریوں کا ریکارڈ دستیاب نہیں، جبکہ بعض ڈگریوں کے ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایل ایل بی ڈگریوں کی جانچ پڑتال کے لیے اسکروٹنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے متعلقہ ڈگریوں اور ریکارڈ کی چھان بین کے بعد اپنی رپورٹ مرتب کرکے وائس چانسلر کو جمع کرا دی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر جعلی قرار دی گئی ڈگریاں یونیورسٹی سے منسلک 17 کالجز کے ذریعے جاری کی گئیں۔ ان کالجز کا تعلق سکھر، پنوعاقل، ڈہرکی، نوشہرو فیروز، لاڑکانہ، جیکب آباد، کشمور اور مورو سمیت مختلف شہروں سے بتایا گیا ہے۔
اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بعض ڈگریوں کا متعلقہ ریکارڈ موجود نہیں، جبکہ کچھ ڈگریوں کے ریکارڈ میں ردوبدل کیا گیا۔ اس انکشاف کے بعد ایل ایل بی ڈگریوں کے اجرا، تعلیمی ریکارڈ کی حفاظت اور متعلقہ کالجز کی نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ وائس چانسلر کو پیش کیے جانے کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بھی ارسال کی جائے گی، تاکہ معاملے کا جائزہ لے کر آئندہ کارروائی سے متعلق فیصلہ کیا جا سکے۔