گھر سے مہمانوں کے لیے بوتل لینے جانے والی 14 سالہ طالبہ درندگی کے بعد قتل
راولپنڈی کی 14 سالہ مصباح
گھر سے صرف بوتل لینے نکلی تھی۔
نہ اسے معلوم تھا کہ دروازہ پار کرتے ہی
موت اس کے پیچھے لگ جائے گی۔
ایک درندہ اسے اغوا کرتا ہے،
قتل کرتا ہے،
لاش بوری میں بند کرتا ہے
اور خاموشی سے فرار ہو جاتا ہے۔
اور ہم؟
ہم ہمیشہ کی طرح بعد میں جاگتے ہیں۔
پہلے لاپرواہی،
پھر چیخیں،
پھر آنسو،
اور آخر میں چند دن کا شور۔
سوال کڑوا ہے مگر ضروری ہے:
کیا واقعی ہمیں اپنے بچوں کی فکر صرف مرنے کے بعد آتی ہے؟
یہ معاشرہ اب بچوں کے لیے محفوظ نہیں رہا،
اور یہ سچ جتنا جلد مان لیں
اتنا ہی شاید کسی اور مصباح کی جان بچ جائے۔
#مصباح
#معاشرتی_ناکامی
#بچوں_کا_تحفظ
#خاموش_قاتل
یہ صرف ایک خبر نہیں، یہ ریاست، قانون اور معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہے۔ پاک پورہ کے علاقے میں ایک محنت کش کی بیٹی کو مبینہ طور پر تین درندہ صفت افراد نے زبردستی اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کمزور طبقے کے لیے نہ گلی محفوظ ہے، نہ محلہ اور نہ ہی قانون کا خوف باقی رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی کے والد نے انتہائی کرب کے عالم میں واقعہ کا مقدمہ درج کروایا، جس میں کاشف ولد محمد سردار قوم آرائیں، ادریس ولد محمد فاروق قوم راجہ (سکنہ پنڈی بھاگو) اور بلال ولد محمد لطیف قوم گجر (سکنہ پاک پورہ) کو نامزد کیا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد علاقہ بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ عوام یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ ایسے درندے آخر کب تک کھلے عام گھومتے رہیں گے؟
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تفتیش جاری ہے اور متاثرہ لڑکی کا میڈیکل معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے، تاہم عوام کے نزدیک یہ بیانات اب محض رسمی کارروائیاں بن کر رہ گئی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا نہ دی گئی تو ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہو گا۔
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی دیوالیہ پن کے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں محنت کش کی بیٹی سب سے آسان شکار بن جاتی ہے۔ اہلِ علاقہ، سماجی تنظیموں اور باشعور حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے، تاکہ آئندہ کوئی مجرم بیٹیوں کی عزت سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔
یہ وقت بیانات کا نہیں، فیصلہ کن عمل کا ہے۔
✍️ سید عارف رضوی🇵🇰
سیالکوٹ
شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +