*امام مہدی: خیال اور حقیقت*
`(مولانا مودودیؒ کی سوچ کے مطابق)`
*امام مہدی کے بارے میں ہمارے معاشرے میں بہت سی باتیں مشہور ہیں، لیکن اگر ہم جذبات سے ہٹ کر سچائی اور حقیقت کو دیکھیں تو معاملہ کچھ اور ہی نظر آتا ہے۔ آئیے ایک ایک کر کے سمجھتے ہیں کہ امام مہدی کیسے ہوں گے اور ان کے کام کرنے کا طریقہ کیا ہو گا؟*
1. عام لوگوں کا خیال کیا ہے؟ (غلط فہمی)
امام مہدی کے بارے میں عام مسلمانوں کی سوچ جس طرح رکی ہوئی ہے اور وہہموں کا شکار ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے قانون اور تاریخ کے طریقے کو نہیں جانتے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امام مہدی بالکل پرانے زمانے کے بزرگوں جیسے حلیے میں آئیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ شاید وہ تسبیح ہاتھ میں لیے اچانک کسی مدرسے یا خانقاہ سے باہر نکل آئیں گے۔
عام عوام، بلکہ بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی امام مہدی کو کسی ایسے انسان کے روپ میں دیکھنے کا انتظار کر رہے ہیں جس کے پاس جادوئی طاقتیں ہوں۔ لوگ یہ بھی سوچتے ہیں کہ وہ پھونکوں، تعویذوں اور کرامات کے زور پر جنگیں جیت لیں گے۔ بس وہ جس کافر کو دیکھیں گے وہ گر جائے گا، اور ان کی بددعا سے دشمن کے ٹینکوں اور جہازوں میں کیڑے پڑ جائیں گے۔ یہ سوچ دراصل اس نشے میں ڈوبی ہوئی ذہنیت کا نتیجہ ہے جو محنت اور عمل سے بھاگ کر معجزات کے سہارے جینا چاہتی ہے۔
2. اصل حقیقت کیا ہو گی؟ (جدید لیڈر)
لیکن اگر قرآن کے مزاج اور دین میں تبدیلی لانے کے مقصد کو سمجھا جائے تو تصویر اس کے بالکل الٹ نظر آتی ہے۔ آنے والے امام، موجودہ دور کے سب سے بڑے “سمجھدار عالم” اور وقت کے سب سے بہترین “سیاسی لیڈر” ہوں گے۔ وہ پرانی اور دقیانوسی باتوں میں پھنسے ہوئے نہیں ہوں گے بلکہ جدید ترین علوم اور آج کے زمانے کی ضرورتوں کو پوری طرح سمجھنے والے ایک جاگتے ہوئے دماغ کے مالک لیڈر ہوں گے۔
وہ کیسے ہوں گے:
وہ اپنے زمانے کے سب سے ماڈرن اور ذہین لیڈر ہوں گے۔
انہیں آج کے دور کی سائنس، ٹیکنالوجی، سیاست اور جنگ لڑنے کے طریقوں پر مکمل مہارت حاصل ہو گی۔
وہ دنیا کے عام پڑھے لکھے لوگوں سے بھی زیادہ جدید سوچ کے مالک ہوں گے، کیونکہ انہیں دین اور دنیا دونوں کا گہرا علم ہو گا۔
وہ آج کل کی برائیوں اور غلط نظام کا مقابلہ اسی کے ہتھیاروں (یعنی جدید طریقوں) سے کریں گے۔
3. کام کرنے کا طریقہ (جدوجہد، نہ کہ جادو)
امام مہدی کا مشن کوئی جادو کا کھیل نہیں ہو گا بلکہ یہ ایک بہت سخت اور صبر آزما محنت ہو گی۔ وہ صرف وظیفوں اور مراقبوں سے نہیں، بلکہ ایک ایسی زبردست تہذیبی اور سیاسی تحریک چلائیں گے جو ہر لحاظ سے مکمل ہو گی اور باطل سے ٹکرائے گی۔
ان کا طریقہ کار:
وہ سخت محنت، زبردست منصوبہ بندی اور عقل و سمجھ سے کام لیں گے۔
وہ لوگوں کی ذہن سازی کریں گے اور ایک طاقتور حکومت قائم کریں گے۔
وہ سوچنے کا ایک نیا انداز متعارف کروائیں گے جس میں اسلام کی روح اور دنیا کی ترقی کا حسین ملاپ ہو گا۔
وہ ایک ایسی اسلامی ریاست بنائیں گے جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کی بلندیوں کے ساتھ ساتھ اللہ کا ڈر بھی موجود ہو گا۔
وہ اپنی ذہانت، سیاسی سمجھ بوجھ اور جنگی مہارت سے دشمن کے ایوانوں میں ہلچل مچا دیں گے۔
4. کیا وہ دعویٰ کریں گے؟ (میں مہدی ہوں!)
بالکل نہیں! دین کو قائم کرنا اور خلافت بنانا کوئی ایسا عہدہ نہیں جو دعوے کرنے سے ملتا ہو، بلکہ یہ تو عملی کام کا نتیجہ ہوتا ہے۔
> }}}ف ح{{{
پہچان کا طریقہ:
نبوت کے علاوہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ میں اللہ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہوں۔
اس لیے وہ گلی محلوں میں “میں مہدی ہوں” کے نعرے نہیں لگائیں گے اور نہ ہی اپنے مہدی ہونے کا اشتہار دیں گے۔
ہو سکتا ہے انہیں خود بھی شروع میں معلوم نہ ہو کہ وہ مہدی ہیں۔
ان کی پہچان ان کا “کام اور کارنامہ” ہو گی۔
جب وہ کفر اور بے دینی کے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور خلافت کو نبی کریم ﷺ کے طریقے پر دوبارہ قائم کر دیں گے، تب دنیا پکار اٹھے گی کہ ہاں! یہی وہ مردِ مومن ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔
5. مخالفت کون کرے گا؟ (روایتی طبقے کا خطرہ)
یہ ایک ڈرانے والی لیکن سچی بات ہے۔ امام مہدی کو سب سے زیادہ خطرہ باہر کے دشمنوں سے نہیں، بلکہ خود مسلمانوں کے اندر موجود تنگ نظر مذہبی لوگوں سے ہو گا۔
روایتی علماء کا تصور:
ہمارے ہاں علماء اور مذہبی طبقے نے امام مہدی کا ایک خاص نقشہ ذہن میں بنایا ہوا ہے کہ وہ پرانے زمانے کے بزرگوں جیسے کپڑے پہنے، ہاتھ میں لمبی تسبیح لیے، کسی مدرسے یا خانقاہ سے نکلیں گے۔
فتووں کی بارش:
پکا ڈر ہے کہ جب وہ اپنی نئی حکمت عملی اور اجتہاد کی تلوار لے کر اٹھیں گے تو سب سے پہلے یہ روایتی مذہبی لوگ ہی ان کے نئے طریقوں اور تازی سوچ کو “بدعت” (دین میں نئی بات) قرار دے کر ان کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے۔
بدعت کا الزام: وہ کہیں گے کہ یہ شخص تو دین میں نئی نئی باتیں لا رہا ہے۔
پہچاننے سے انکار: وہ کہیں گے کہ یہ تو کوئی انگریزی پڑھا ہوا لیڈر لگتا ہے، یہ مہدی نہیں ہو سکتا۔
شور و شرابا: وہ ان کے نئے طریقوں کے خلاف عام عوام کو بھڑکائیں گے۔
مہدی کا ردِعمل:
امام مہدی ان فتووں اور مخالفتوں کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے۔ وہ کسی کو خوش کرنے کے لیے نہیں آئیں گے بلکہ کام کرنے آئیں گے۔ وہ اسلام کو صرف مسجدوں اور مدرسوں تک محدود رکھنے کے بجائے سیاست، عدالت اور معیشت میں نافذ کر کے دکھائیں گے۔
6. یہ سب کیسے ممکن ہے؟
عقل مند انسان یہ سوچتا ہے کہ جب لینن اور ہٹلر جیسے گمراہی پھیلانے والے لیڈر دنیا کا نقشہ بدل سکتے ہیں، تو مسلمانوں میں سے ایک ایسا ہدایت یافتہ لیڈر کیوں پیدا نہیں ہو سکتا جو اللہ کے قانون کو نافذ کر کے تاریخ کا رخ موڑ دے؟
اگر غلط راستے پر چلنے والے لیڈر اپنی قیادت سے دنیا کا نقشہ بدل سکتے ہیں، تو ایک ایسا لیڈر جسے اللہ کی مدد حاصل ہو اور جو سیدھے راستے پر ہو، وہ دنیا کو کیوں نہیں بدل سکتا؟ یہی قدرت کا قانون ہے اور یہی اللہ کی مرضی۔
نوجوانوں کے لیے اہم سبق
آج کے نوجوانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اسلام صرف ظاہری شکل و صورت یا پرانی رسموں کی اندھی نقل کرنے کا نام نہیں ہے۔ اگر کل کو کوئی ایسا لیڈر اٹھے جو دیکھنے میں روایتی مولوی نہ لگتا ہو، لیکن اس کی سوچ، کردار اور حکمت عملی سے اسلام کا بول بالا ہو رہا ہو، تو اس کا ساتھ دیں۔ صرف ظاہری حلیے یا کسی مولوی صاحب کے فتوے کی وجہ سے سچائی کو جھٹلانا بہت بڑی غلطی ہو گی۔
خلاصہ
امام مہدی کا انتظار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کا نام نہیں ہے۔ ان کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہو گا یعنی آسان نہیں ہو گا۔ انہیں باہر کے کافروں سے لڑنے سے پہلے گھر کے ان تنگ نظر مذہبی لوگوں سے نمٹنا پڑے گا جو ان کی جدید سوچ کو کفر یا گمراہی کہہ کر رد کر دیں گے۔
وہ ایک ایسے لیڈر ہوں گے جو اپنی ذہانت، جدید علوم اور عمل سے اسلام کو دنیا کا غالب نظام بنائیں گے۔ ان کی اصل طاقت تسبیح نہیں، بلکہ ان کی بصیرت (گہری سمجھ) اور عمل ہو گا۔ مہدی بننا دعویٰ کرنے کی چیز نہیں، بلکہ کچھ کر کے دکھانے کی چیز ہے۔
کاپی پیسٹ ادارہ