عصر حاضر اور پاکستان…. تحریر :شیخ محمد عرفان گولڑوی

خصوصی کالم
شیخ محمد عرفان گولڑوی

“عصر حاضر اور نظریہ پاکستان ”

​نظریہ پاکستان محض ایک سیاسی نعرہ یا زمین کے ٹکڑے کے حصول کی تگ و دو کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی لازوال حقیقت ہے جس کی جڑیں برصغیر کے مسلمانوں کی تہذیب، تاریخ اور ایمان میں پیوست ہیں۔

آج اکیسویں صدی کے پیچیدہ چیلنجز، گلوبلائزیشن اور ففتھ جنریشن وارفیئر کے دور میں اس نظریے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
​عصرِ حاضر میں جنگیں سرحدوں پر نہیں بلکہ انسانی ذہنوں میں لڑی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے اور ثقافتی یلغار کا مقابلہ صرف اور صرف “قومی شناخت” کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ نظریہ پاکستان ہمیں وہ فکری بنیاد فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے ہم اپنی نوجوان نسل کو بیرونی فکری غلامی سے بچا سکتے ہیں۔

​قائد اعظم اور علامہ اقبال کا خواب ایک ایسی ریاست تھا جہاں معاشی انصاف کا بول بالا ہو۔ آج جب پاکستان معاشی دباؤ اور مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، تو نظریہ پاکستان ہمیں “خود انحصاری” کا سبق دیتا ہے۔ ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست کی تشکیل جہاں دولت چند ہاتھوں میں گردش نہ کرے بلکہ غریب اور متوسط طبقے کو بھی عزتِ نفس کے ساتھ جینے کا حق ملے، دراصل تحریکِ پاکستان کے ادھورے ایجنڈے کی تکمیل ہے-

آج کے دور میں لسانیت، صوبائیت اور فرقہ واریت نے ہماری قومی جڑوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ عصرِ حاضر کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم “پاکستانیت” کو ہر قسم کے چھوٹے تعصبات پر مقدم رکھیں۔ نظریہ پاکستان ہی وہ واحد رشتہ ہے جو خیبر سے کراچی تک کے عوام کو ایک لڑی میں پروتا ہے۔
​عصرِ حاضر میں نظریے کی تشریح صرف ماضی کی یادوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اسے “ترقی کے وژن” سے جوڑنا ہوگا۔ علامہ اقبال کا شاہین وہی نوجوان ہے جو ایمان کی طاقت کے ساتھ جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق میں دنیا کی امامت کرے۔

نظریہ پاکستان ہمیں جمود کا نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد اور ارتقا کا درس دیتا ہے نظریہ پاکستان ہماری وہ “قومی روح” ہے جس کے بغیر ریاست کا وجود ایک بے جان ڈھانچے کی مانند ہے۔ موجودہ داخلی و خارجی بحرانوں کا واحد حل اس نظریے کی روح کو سمجھنے اور اسے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے میں پنہاں ہے۔ اگر ہم ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ پاکستان چاہتے ہیں، تو ہمیں دوبارہ اسی جذبے کی طرف لوٹنا ہوگا جس نے 1947ء میں دنیا کا نقشہ بدل دیا تھا۔تاریخ گواہ ہے کہ تحریکِ پاکستان کی کامیابی کا راز قائد اعظم محمد علی جناح جیسی بے داغ شخصیت اور پختہ عزم میں پوشیدہ تھا، جنہوں نے اپنی سیاسی بصیرت سے بکھرے ہوئے ہجوم کو ایک متحد قوم میں بدل دیا۔

​آج کے سیاسی منظر نامے میں بھی ہمیں ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جو سیاست کو انتقام کے بجائے خدمتِ خلق اور قومی تعمیر کا ذریعہ بنائیں جو لسانی اور صوبائی بنیادوں پر ووٹ بٹورنے کے بجائے وفاقِ پاکستان کی مضبوطی کی بات کریں جو عالمی دباؤ کے سامنے سر جھکانے کے بجائے قومی مفاد کی خاطر جرات مندانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو عصرِ حاضر میں سیاسی شخصیات کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اقتدار کی رسہ کشی چھوڑ کر ایک ایسا “میثاقِ معیشت” اور “میثاقِ جمہوریت” اپنائیں جو پاکستان کو معاشی طور پر خود مختار بنا سکے۔

جب تک ہماری سیاسی قیادت نظریہ پاکستان کو اپنی انتخابی مہمات سے نکال کر پالیسی سازی کا محور نہیں بنائے گی، تب تک ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کا قیام خواب ہی رہے گا۔ مخلص سیاسی قیادت ہی وہ پل ہے جو عوام کے اعتماد اور ریاست کے استحکام کو آپس میں جوڑتی ہے۔

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +