*ابھی میں زندہ ہوں، مگر سرکاری ریکارڈ میں مر چکا ہوں صادق آباد کا رہائشی فلک شیر بچوں کے ب فارم بنوانے نادرا پہنچے تو پتا چلا کہ سرکاری ریکارڈ میں موصوف فوت ہو چکے ہیں*
فلک شبیر کا کہنا تھا کہ یونین کونسل گیا تو انہوں نے بھی یہ کہا کہ تم فوت ہوگئے ہوں، اس لیے ہم آپکا کچھ نہیں کر سکتے
نادرا حکام کے مطابق شہری اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے چکا تھا، جس کے بعد مبینہ طور پر خاتون نے سندھ جا کر شوہر کا جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوایا، یونین کونسل میں اس کی وفات کا اندراج کرا دیا۔
شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک