ٹرمپ کی فوجیں ایران کی جانب روانہ، کیا ایران اپنا دفاع کر سکے گا..؟
غلام مصطفیٰ جمالی
گزشتہ چند مہینوں میں دنیا ایک ایسے سیاسی اور فوجی دباؤ والی صورتحال سے گزر رہی ہے، جو امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلانوں، فوجی تیاریوں اور سخت بیانات نے نہ صرف خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے، بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کے لیے سنگین خدشات پیدا کیے ہیں۔ ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کے قریب بڑی بحری اور فضائی فوجی قوت روانہ کر رہا ہے، جو شاید جوہری پروگرام پر حملے سے بھی زیادہ سطح کی ہو سکتی ہے۔ اس فوجی نقل و حرکت کا مقصد ایران کو خبردار کرنا اور دباؤ بڑھانا ہے، لیکن صدر ٹرمپ زور دے کر کہہ چکے ہیں کہ یہ لازمی طور پر فوجی کارروائی کا مطلب نہیں، اور یہ طاقت احتیاطی طور استعمال کی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کی اس پالیسی پر عالمی سطح پر سخت تنقید ہو رہی ہے۔ یورپی یونین، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی جارحیت نہ صرف خطے میں عدم استحکام پیدا کرتی ہے، بلکہ امن قائم کرنے کی عالمی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ کی سخت پالیسیوں سے عالمی امن، تجارتی مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں خاص طور زور دیتی ہیں کہ ایران پر فوجی دھمکیاں اور جارحیت غیر ضروری خونریزی کا سبب بن سکتی ہیں۔
ایسی صورتحال میں پاکستان کا کردار بھی انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ حال ہی میں پاکستان بورڈ آف پیس میں شامل ہوا ہے، جو عالمی امن قائم کرنے، مسائل کے حل تلاش کرنے اور سیاسی ثالثی کے لیے کام کرتا ہے۔ پاکستان کی شمولیت سے خطے میں امن قائم کرنے کی امید بڑھ گئی ہے۔ بورڈ آف پیس کے ذریعے پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی کوششیں بڑھا سکتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر ثالثی کی کوششیں بھی کر سکتا ہے۔ پاکستان کی عالمی سطح پر یہ موقف بہتر تصویر پیش کرتا ہے کہ ملک امن پسند اور ثالثی کے حق میں ہے اور خطے میں امن قائم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔
اگر امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع بڑھ جائے تو خطے پر اثر انتہائی سنگین ہوگا۔ عراق، شام، یمن اور دیگر قریبی ممالک میں عدم استحکام بڑھ جائے گا، جہاں ایران کے پراکسی گروپ سرگرم ہیں۔ عالمی تیل کی مارکیٹ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ ایران اور سعودی عرب جیسے ممالک عالمی تیل کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی معیشت پر اثر اور توانائی کے تحفظ میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
اسرائیل بھی اس صورتحال سے متاثر ہوگا۔ ایران کے پراکسی فورسز اور بیلسٹک میزائلز خطے میں اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسرائیل کا دفاعی نظام مضبوط ہے، لیکن اگر ایران اور امریکہ کے درمیان بڑا فوجی تصادم ہو جائے، تو اسرائیل کو بھی شدید نقصان کا خدشہ ہے۔ اسرائیل کو شاید اضافی دفاعی مدد اور فضائی تحفظ فراہم کرنا پڑے، اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے عالمی کوششوں میں حصہ لینا پڑے۔
ایران کی طاقت بھی قابل غور ہے۔ ایران کے پاس پراکسی فورسز، بیلسٹک میزائل سسٹم، ڈرونز اور غیر روایتی فوجی صلاحیت موجود ہے، جو خطے میں امریکہ کی فوجی حکمت عملی کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔ ایران براہ راست مقابلے میں محدود طور پر امریکہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن مکمل جنگ میں اقتصادی پابندیاں، جدید امریکی ٹیکنالوجی اور عالمی تعاون کی وجہ سے ایران شدید نقصان کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایران کی فوجی حکمت عملی زیادہ تر پراکسی گروپس کے ذریعے اثر انداز ہونے پر مبنی ہے، جس سے خطے میں سیاسی اور فوجی توازن بدل سکتا ہے۔
ٹرمپ کی فوجی پالیسیوں اور سخت بیانات کے ساتھ خطے میں امن اور استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ امریکہ کی فوجی تیاری، ایران پر نظر رکھنا، اور طاقت کا مظاہرہ خطے میں دباؤ بڑھا رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا، اور اگر نیوکلئئر پروگرام جاری رکھا تو دوبارہ حملہ کیا جائے گا، لیکن وہ امید رکھتے ہیں کہ شاید فوجی طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں کو قریب سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ طاقت کی بنیاد پر سفارت کاری کرنا چاہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی عالمی طاقت نے فوجی دباؤ بڑھایا ہے تو اس کے نتائج ہمیشہ تباہی، انسانی المیے اور سیاسی افراتفری کی شکل میں نکلے ہیں۔ ایران کے معاملے میں بھی یہی خطرہ موجود ہے۔ ٹرمپ کا کہنا کہ “شاید فوجی طاقت استعمال نہ کرنا پڑے” دراصل نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران کو اقتصادی، سیاسی اور سفارتی طور کمزور کرنا ہے۔
ایران پہلے ہی سخت اقتصادی پابندیوں کے تحت ہے۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معیشت، کرنسی اور روزگار سخت متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ایران اپنی مزاحمتی حکمت عملی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ اگر وہ دباؤ کے سامنے جھک جائے تو خطے میں ان کا اثر ختم ہو جائے گا۔ اس لیے ایران براہ راست جنگ سے بچتے ہوئے بھی غیر مستقیم طور پر اپنی طاقت کا اظہار کر رہا ہے، جس میں پراکسی فورسز، سفارتی اتحاد اور علاقائی اثر شامل ہیں۔
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ کیا ایران امریکہ جیسی سپر پاور کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ فوجی لحاظ سے امریکہ کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی، طاقتور بحری جہاز، جدید طیارے اور عالمی اتحاد موجود ہیں، جبکہ ایران کے وسائل محدود ہیں۔ لیکن جدید جنگ صرف ٹینک اور طیاروں سے نہیں ہوتی، بلکہ سائبر وار، میزائل ٹیکنالوجی، ڈرونز اور پراکسی گروپس کے ذریعے بھی جنگ کے میدان گرم کیے جاتے ہیں۔ ایران اس غیر روایتی جنگ میں کافی حد تک ماہر ہو چکا ہے۔
اسرائیل اس پوری صورتحال میں سب سے حساس پوزیشن پر کھڑا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان پہلے ہی کشیدگی موجود ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو اس کے براہ راست اثرات اسرائیل پر پڑیں گے۔ حزب اللہ جیسے گروپس، جو ایران کی حمایت سے کام کرتے ہیں، اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس صورت میں اسرائیل کو نہ صرف فوجی نقصان بلکہ اقتصادی اور سماجی سطح پر بھی بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عرب دنیا بھی اس تنازع سے دور نہیں ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک ایک طرف امریکہ کے اتحادی ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ ان کے پرانے اختلافات ہیں۔ جنگ کی صورت میں یہ ممالک بھی براہ راست یا بالواسطہ متاثر ہوں گے۔ تیل کے ذخائر، سمندری راستے اور عالمی تجارت سب خطرے میں پڑ سکتے ہیں، جس سے عالمی معیشت پر شدید اثر پڑے گا۔
ایسی نازک عالمی صورتحال میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت صرف علامتی اقدام نہیں، بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کے ذمہ دار اور امن پسند سوچ کا اظہار ہے۔ پاکستان پہلے بھی کئی عالمی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی بحالی ہو یا افغانستان کے مسئلے پر مذاکرات، پاکستان ہمیشہ امن کی بات کرتا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی فوجی بلاک کا حصہ بننے کی بجائے غیر جانبدار اور متوازن پالیسی اپنائے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، جبکہ امریکہ پاکستان کا اہم عالمی پارٹنر رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کو عقل، سفارت کاری اور قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ بورڈ آف پیس جیسے فورمز پاکستان کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ عالمی امن کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو کئی تجزیہ نگار جارحانہ، غیر متوقع اور خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ان کی پالیسیاں دنیا کو زیادہ محفوظ بنانے کی بجائے غیر محفوظ کر رہی ہیں۔ ایران پر دھمکیاں، فوجی طاقت کا مظاہرہ اور سخت بیانات دنیا کو ایک بڑی جنگ کے کنارے پر کھڑا کر رہے ہیں، جس کے نتائج کسی کے بھی حق میں نہیں ہیں۔
آخرکار یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ایران ہو یا امریکہ، اسرائیل ہو یا عرب ممالک، سب کو سمجھنا چاہیے کہ طاقت کا استعمال صرف تباہی لاتا ہے۔ سفارت کاری، مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن کی اس آواز کو مزید مضبوط کرے، کیونکہ اگر جنگ بھڑک گئی تو اس کی شدت پوری دنیا محسوس کرے گی۔
ٹرمپ کی فوجی تیاریوں اور سخت بیانات سے خطے میں دباؤ بڑھتا ہے، لیکن پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت امن قائم رکھنے اور ثالثی کے لیے امید کی روشنی فراہم کرتی ہے۔ ایران کی طاقت، پراکسی فورسز اور میزائل صلاحیت کے ساتھ خطے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے عالمی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔
پورے منظرنامے کا تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ، ایران، اسرائیل، سعودی عرب اور پاکستان سب کے موقف، حکمت عملی اور عالمی تعاون خطے میں امن اور استحکام قائم رکھنے کے لیے اہم ہیں۔ اگر سب ممالک سمجھداری سے قدم اٹھائیں، تو فوجی تصادم اور تباہی سے بچا جا سکتا ہے، لیکن اگر جارحیت اور سخت پالیسیاں جاری رہیں، تو خطے میں عدم استحکام اور عالمی سطح پر بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالی
تحصیل ٹنڈوباغو، ضلع بدین
فون: 03333737575
شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +وٹس آپ