میرے ساتھ مل کر آواز اٹھائیے۔ڈاکٹر چوہدری عمر رفیق کے ایک دوست کے زریعے اس کیس کے متعلق معلومات کے مطابق نیوز لگائی جا رہی ہے –
تقریباً ڈھائی سال پہلے ایک بہت تکلیف دہ واقعہ پیش آیا تھا۔ ڈاکٹر چوہدری عمر رفیق میرے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتے رہے تھے۔ وہ جھنگ کے علاقے وریام والا میں اپنا نیا نیا ہسپتال بنا کر بیٹھے تھے۔ ایک کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کے پولیس والے کو ڈاکٹر عمر سے کسی بات پہ ذاتی عناد تھا۔
اس پولیس والے نے ایک رات فیصل آباد میں گشت کی ڈیوٹی کرتے ہوئے خاموشی سے اپنے تین ساتھ پولیس والوں کے ساتھ گشت کرنے کے بجائے جھنگ کا راستہ لیا اور وہاں جا کر ڈاکٹر عمر کے ہسپتال پہ دھاوا بول دیا۔ وہاں یہ تاثر دیا کہ یہ کسی سپیشل فورس کے بندے ہیں اور ان کی طرف سے ہی آئے ہیں۔
وہاں سے ڈاکٹر عمر کو اغوا کیا اور پھر اسے کہیں دور لے جا کر اس پہ بیہمانہ غیر انسانی تشدد کیا۔ اس کے ناخن اکھاڑ دیے ، اس کا کان کاٹ دیا، اس کی آنکھ نکال دی۔ اس کے سر کے بال جلد سمیت کاٹ دیے، داڑھی نوچ دی اور پھر اسے قتل کر کے نہر میں پھینک دیا۔
ذرا سوچیں ایک زندہ انسان کی آنکھ نکال دی گئی، اس کے ناخن اکھاڑ دیے گئے ، سر کی جلد بالوں کے ساتھ کاٹ دی گئی۔ صرف اغوا کر کے قتل کر دیتے تو شاید اتنی تکلیف نہ ہوتی لیکن کسی جیتے جاگتے انسان پہ اتنا ظلم کون کرتا ہے۔
ڈاکٹر عمر تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا، اس کا ایک بیٹا تھا۔ اپنے ماں باپ ، اپنی بہنوں اور اپنے بیٹے کا اکلوتا سہارا تھا اور ان ظالموں نے اسے بیدردی سے مار دیا۔
ڈاکٹر عمر کو قتل کرنے اور اس کی لاش کو بوری میں بند کرنے کے بعد وہ چاروں خاموشی سے واپس اپنی ڈیوٹی پہ پہنچ گئے تاکہ ریکارڈ پہ یہ رہے کہ وہ تو اس وقت فیصل آباد میں آن ڈیوٹی تھے۔
جہاں واقعہ ہوا تھا ، وہاں پہلے تو پولیس ایف آئی آر ہی نہیں کاٹ رہی تھی کہ یہ شاید فوج یا انٹیلی جنس کی کاروائی تھی۔ پھر دباؤ ڈالا گیا اور تفتش شروع ہوئی تو اس ایریا میں موجود سم نیٹ ورک کے ذریعے بالآخر ان چاروں کو پکڑ لیا گیا۔ سختی سے تفتیش کی گئی تو ان چاروں نے جرم کا اعتراف کر لیا۔ ان کے بتانے پہ حویلی کینال سے ڈاکٹر عمر کی بوری بند لاش نکالی گئی جس کا حلیہ اتنا برا تھا کہ انسان دیکھ نہ سکے۔
ان چاروں پہ کیس چلا ، بوڑھا باپ پیشیوں پہ جاتا رہا۔ وہ پہلے ہی ساری جمع پونجی بیٹے کو پڑھانے پہ لگا چکا تھا۔ اب عدالتوں کے خرچے پورے کرنے کے لیے لوگوں سے مدد لینے پہ مجبور ہو گیا تھا۔ اتنی مشکل اور تکلیف سہنے کے بعد ، ان چاروں کے باقاعدہ اعتراف کے باوجود اب ٹرائل کورٹ نے ان چاروں کو ضمانت پہ رہا کر دیا ہے۔
اب ڈاکٹر عمر کے والد کو یہ ڈر ہے کہ وہ چاروں ان کو اور ان کی فیملی کو بھی نقصان پہنچائیں گے، انھیں کیس سے روکنے کے لیے ان کے ساتھ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ہمیں ان کے لیے آواز اٹھانی ہے، انھیں انصاف دلانا ہے۔
میری آواز کے ساتھ آواز ملائیے اور انھیں انصاف دلائیے۔۔۔۔
#Justice_For_DrOmerRafiq
شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک