*جھنگ دن دیہاڑے سابق MPA کے گھر ڈکیتی، پولیس کی ناکامی بے نقاب، ناکوں پر تعینات عملہ معطل کرنے کا مطالبہ*
ضلع جھنگ میں دن دیہاڑے سابق ایم پی اے خالد محمود سرگانہ کے گھر ڈکیتی کی سنگین واردات نے پولیس کی کارکردگی پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق محلہ غازی آباد نزد گوجرہ پھاٹک میں مسلح ڈاکو فارچونر گاڑی پر سوار ہو کر آئے اور مبینہ طور پر پولیس وردیوں میں ملبوس ہو کر گھر میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر پانچ موبائل فون، سونے کا باکس اور بھاری نقدی لوٹ لی اور بآسانی فرار ہو گئے۔
واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آ چکی ہے، جس میں ملزمان کی نقل و حرکت دیکھی جا سکتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ واردات کے دوران گوجرہ پھاٹک اور دارالسکینہ پھاٹک جیسے حساس مقامات پر پولیس اور ٹریفک کے ناکے موجود ہونے کے باوجود ملزمان بغیر کسی رکاوٹ کے فرار ہو گئے، جو سکیورٹی نظام کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ٹریفک پولیس عوام کو جرمانے کرنے میں مصروف ہے جبکہ دوسری جانب جرائم پیشہ عناصر کھلے عام وارداتیں کر رہے ہیں۔
مزید برآں ضلع بھر میں کالے شیشوں والی گاڑیوں، اپلائیڈ فار نمبر پلیٹس اور سرکاری گاڑیوں و موٹر سائیکلوں پر غیر قانونی نمبرز کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونا بھی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب، آر پی او فیصل آباد اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں نے زور دیا ہے کہ گوجرہ پھاٹک اور دارالسکینہ پھاٹک پر تعینات عملہ کو فوری معطل کر کے شفاف انکوائری کی جائے اور سکیورٹی نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں عام آدمی خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو جرائم میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
🚨 افسوس ناک خبر
ابھی کچھ دیر پہلے دن دیہاڑے سابق ایم پی اے مہر خالد محمود سرگانہ (PP-128) کے گھر ڈکیتی کی واردات پیش آئی۔
مبینہ طور پر پولیس کی وردیوں میں ملبوس ملزمان نے اہلِ خانہ کو یرغمال بنا کر نقدی اور دیگر قیمتی اشیاء لوٹ لیں اور موقع سے فرار ہو گئے۔ 😔
قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری نوٹس اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جاتا ہے تاکہ عوام میں پائی جانے والی تشویش کا خاتمہ ہو سکے۔