انصاف کو کفن نہ پہنائیں: چک نمبر 186 ر ب کے یتیم بچی کے ساتھ زیادتی کا کیس، پولیس کا گھناؤنا کردار بے نقاب
ایم ایس، آئی جی پنجاب، آر پی او اور سی پی او فیصل آباد سے بیوہ ماں کی دہائی: کیا یتیم بچی کو انصاف نہیں ملے گا؟
فیصل آباد
( بیورو چیف رانا اکرم فوجی)
چک جمرہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 186 ر ب میں 15 سالہ یتیم بچی زینب کے ساتھ ہونے والی درندگی نے انسانیت کو شرمندہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک غریب اور یتیم بچی کی عزت کو تار تار کرنے والے بااثر ملزم عمر فاروق کے خلاف مقدمہ تو درج ہوا، مگر قانون کے محافظوں نے ہی درندہ صفت ملزم کو “تحفظ” فراہم کر کے انصاف کا جنازہ نکال دیا ہے۔
قانون کا مذاق اور پولیس کی ملی بھگت
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات اور آئی جی پنجاب کی سخت ہدایات فیصل آباد کی مقامی پولیس کے لیے محض کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گئی ہیں۔ تھانہ جمرہ کی ایک لیڈیز آفیسر سمیت متعلقہ تفتیشی عملہ ملزم کی پشت پناہی کر کے حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔ مقدمے کا نامزد ملزم عمر فاروق، جو اپنی مالی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دو بار عبوری ضمانتیں حاصل کر چکا ہے، اب بھی آزاد گھوم رہا ہے، جبکہ انصاف کی طلبگار یتیم بچی اور اس کی بیوہ ماں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
پولیس کی دیانتداری یا کرپشن کا ننگا ناچ؟
تفتیشی آفیسر کا رویہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ مثل کو کلیئر کر کے ملزم کو “بے گناہ” قرار دینے کا مکروہ منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے۔ کیا پولیس کا کام صرف بااثر مجرموں کو تحفظ دینا رہ گیا ہے؟ اگر اس معاملے میں پولیس کی دیانت داری اور ایمانداری سامنے نہ آئی تو عوام کا قانون سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ یہ کیسی تفتیش ہے جہاں مظلوم کی فریاد سننے کے بجائے ملزم کی مالی حیثیت کو ترجیح دی جا رہی ہے؟
اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ
بیوہ خاتون نے انتہائی کرب اور عاجزی کے ساتھ آر پی او فیصل آباد سہیل اختر اور سی پی او فیصل آباد تنویر حسین سے مطالبہ کیا ہے کہ:
فوری انصاف: ملزم عمر فاروق کو فی الفور گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
انکوائری کا مطالبہ: تھانہ جمرہ کے اس تفتیشی افسر کے خلاف فوری محکمانہ انکوائری کی جائے جو ملزم کے ساتھ مل کر اس یتیم بچی کی زندگی برباد کرنے کے درپے ہے۔
پولیس کا جنازہ نکلنے سے بچائیں: انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے، بصورتِ دیگر یہ سمجھا جائے گا کہ پولیس کا محکمہ اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریوں کا جنازہ نکال چکا ہے۔
کیا فیصل آباد کے کرائم فائٹر آفیسرز اس بیوہ ماں کی پکار سنیں گے، یا پھر یہ کیس بھی پولیس کی ملی بھگت کی بھینٹ چڑھ جائے گا؟ زینب کی ماں کی آنکھیں اب صرف انصاف کی منتظر ہیں۔