لینے کے دینے پڑ گئے،اپنی عدالت لگانا گلے پڑ گئی، مبینہ طور پر بکری چوری کے شک میں پانچ افراد نے 24 سالہ محنت کش کو مار مار کر قتل کر دیا

اپنی عدالت لگانا مہنگی پڑ گئی….

عارف والا محنت مزدوری کرنے کی نیت سے آنے والا نوجوان عارف والا کے علاقہ قبولہ میں ظلم کی داستان بن گیا شبیر نے دیکھا کہ چوری کا الزام لگا کر ایک 24سالہ نوجوان کو پانچ ملزمان نے اغواء کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا کہ نوجوان ظلم کی کہانی بن گیا ہوا کچھ یوں کہ ضلع بہاولنگر کی تحصیل منچن آباد کا رہائشی 24سالہ شوکت علی اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر محنت مزدوری کے سلسلہ میں عارف والا کے نواحی گاؤں 43 ای بی میں آیا اور ایک زمیندار کے ہاں ملازمت کرنے لگ گیا –

ایک روز شوکت اچانک سے لاپتہ ہوا تو گھر والوں کو تشویش لاحق ہوئی اور اسی طرح سات روز گزر گئے شوکت کے بھائی قاسم علی کو کسی خفیہ شخص نے بتایا کہ کچھ روز قبل آپ کے بھائی کو فلاں فلاں پانچ افراد موٹر سائیکلوں پہ بٹھا کر تشدد کرتے ہوئے جا رہے تھے جس پہ قاسم علی نے فوری طور پہ تھانہ قبولہ پولیس کو اطلاع دی اور اس کے بعد پولیس نے قاسم کی مدعیت میں شوکت علی کے اغواء کا مقدمہ 4 نامزد ملزمان باغ علی فیصل عابد اظہر اور تین نامعلوم افراد کے خلاف درج کروا دیا تھانہ قبولہ پولیس نے ملزمان کی تلاش کی تو ان میں سے ایک ملزم قابو میں آیا پولیس نے تھانے لے جا کر اس سے تفتیش کی تو ملزم نے اعتراف کیا کہ ہمیں شوکت علی پہ ہماری بکری کے چوری کرنے کا شعبہ تھا جس پہ ہم شوکت علی کو کچھ روز قبل اغواء کر کے اپنے ڈیرہ پہ لے گئے اور اسے تشدد کا نشانہ بناتے رہے جس کے باعث شوکت علی تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہار گیا پکڑے جانے کے ڈر سے ہم نے رات کے اندھیرے میں اس کی لاش کو دوسرے گاؤں میں لے جا کر گڑھا کھودا اور اس میں دفن کر کے مٹی ڈال کر اورخاموشی سے رفو چکر ہو گئے-

اس انکشاف پہ ڈی پی او پاکپتن جاوید اقبال چڈھر نے فوری طور پہ پولیس ٹیمیں تشکیل دیں اور تھانہ قبولہ کے ایس ایچ او عاشق عابد مہار کی قیادت میں پولیس ٹیم اور فرانزک ٹیموں کو روانہ کیا جس پہ پولیس ملزم کو لے کر نشان دہی والی جگہ پہ پہنچی اور اس جگہ کو کھودا گیا تو وہاں سے اغواء شدہ شوکت علی کی تشدد زدہ لاش برآمد ہو گئی

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +