ایک اور حوا کی بیٹی اپنے پروفیسر شوہر کے ہاتھوں قتل، شوہر ساتھی سمیت گرفتار

🚨*راولپنڈی: شوہر نے ملازم اور والد کے ساتھ مل کر بیوی کو قتل کردیا، لاش باتھ روم سے برآمد۔*

راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں خاتون حنا کو مبینہ طور پر اس کے شوہر نے گھریلو ملازم اور اپنے والد کے ساتھ مل کر قتل کردیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی لاش گھر کے باتھ روم سے برآمد ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حنا کی شادی 9 ماہ قبل ہوئی تھی۔ قتل کے الزام میں مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ایک اور حوا کی بیٹی اپنے سسرالیوں کے ظلم کا شکار ہو کر اس دنیا سے رخصت ہو گئی 💔 ذرائع کے مطابق حنا جاوید کو راولپنڈی میں اپنے ہی شوہر ، سسر اور ایک مددگار شخص جو ان کا ملازم ہے کی طرف سے دو دن پہلے ق ت ل کر دیا گیا ۔۔۔ شوہر اور ملازم کو پولیس نے حراست میں کے کر تفتیش شروع کی تو ملازم نے اعتراف کر لیا کہ اسی نے مرحومہ کے شوہر سے پیسے لے کر ق ت ل کیا ہے۔
شوہر فیصل اصغر Nust یونیورسٹی کا پروفیسر رہ چکا ہے اور ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے جبکہ سسر ریٹائرڈ کرنل ہے۔ رپورٹ کےمطابق سسر کو ابھی تک پولیس نے گرفتار کر کے شامل تفتیش نہیں کیا۔
آئے روز عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہو رہی ہیں جو کہ بہت زیادہ تشویشناک ہے۔

دلہن بن کر آئی تھی، جنازہ بن کر نکلی، مبینہ طور پر پروفیسر شوہر نے ملازم کے ساتھ مل کر اپنی بیوی کو ق تل کیا۔

راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں مقتولہ کی شادی صرف 9 ماہ قبل راوالپنڈی کے رپائشی سے ہوئی تھی۔ گھر سے اس کی لا۔۔ش باتھ روم سے ملی، ہاتھ پیچھے کی جانب بندھے ہوئے تھے، منہ پر کپڑا تھا اور گلے میں تار بھی بندھی ہوئی تھی۔ مقدمے میں مقتولہ کے بھائی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بہن کو اذیتیں دے کر ق ت ل کیا گیا ہے۔

پولیس نے مقدمہ درج کر کے دو افراد گرفتار کر لیے ہیں۔ مقدمے میں مقتولہ کے بھائی نے بتایا ہے کہ اسے اس کے بہن کے سسر کی کال موصول ہوئی۔ جب وہ گھر پہنچے تو اس کی بہن باتھ روم میں مرد۔ہ پڑی تھی۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ خاتون کو قتل سے پہلے کوئی زہریلی چیز بھی دی گئی اور بعد میں واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ تاہم زہر دیے جانے سمیت ان الزامات کی حتمی تصدیق پوسٹ مارٹم اور پولیس تفتیش کے بعد ہی ہوسکے گی۔

پولیس نے خاتون کے شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ مقتولہ کے سسر بھی مقدمے میں نامزد ہیں۔ پولیس کے مطابق موقع سے شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں، پوسٹ مارٹم ہوچکا ہے اور رپورٹ کا انتظار ہے۔

اس کیس کا ایک اور پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ مقتولہ کے اہل خانہ نے مقدمے میں الزام عائد کیا ہے کہ خاتون ے شوہر اس سے پہلے بھی اسے اذیت دیتا رہا تھا۔ ان کے مطابق شوہر کی یہ دوسری شادی تھی اور پہلی بیوی بھی مبینہ گھریلو تشدد اور اذیت کے باعث اس سے علیحدگی اختیار کرچکی تھی۔ تاہم ان دعوؤں کی قانونی حیثیت اور ان کے شواہد بھی تفتیش کا حصہ ہیں۔

مقتولہ کے شوہر مبینہ طور پر پروفیسر ہیں اور کئی جامعات میں پڑھا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا جہاں مرضی کے بغیر شادی کرنے پر لڑکی گھر سے بھاگ کر لاہور آگئی تھی تاہم والد کے ساتھ معاہدہ ہونے ہر اسے واپس لایا گیا۔ گھر لانے کے چند روز بعد اسے مبینہ طور پر ق ت ل کر دیا گیا۔

#Rawalpindi #CrimeNews #PunjabPolice