عمرانیات
یاسین گل کی موت نوجوان نسل کے لیے ایک تلخ سبق ہے بری صحبت جرائم کی دنیا اور غلط فیصلوں کا راستہ بالآخر انسان کو ایسے انجام تک پہنچا سکتا ہے جہاں پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔شورکوٹ کے نواحی علاقے ڈب کلاں سے تعلق رکھنے والے یاسین گل کی ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سی سی ڈی کی کارروائی کے دوران مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت ایک ایسا واقعہ ہے جس سے نوجوان نسل کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔
انسان جب جرم کی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو شاید ابتدا میں اسے دولت، طاقت اور دوستوں کی محفلوں میں اپنی دھاک بٹھانے کا خیال خوش نما لگتا ہومگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ غلط راستے کی منزل اکثر تباہی ہوتی ہے۔
ذرا ان والدین کے بارے میں سوچیے جنہوں نے اپنے بچے کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا اس کی تعلیم خوراک اور لباس کے لیے اپنی خواہشات قربان کیں اور اس کے مستقبل کے لیے ہزاروں خواب دیکھے۔ باپ نے محنت کرکے گھر چلایا ماں نے اپنی نیندیں قربان کرکے اولاد کو پالا۔ ان کی امید یہی تھی کہ ایک دن ان کا بیٹا بڑا ہوکر ان کا سہارا بنے گا گھر کی ذمہ داریاں اٹھائے گا اور ان کے بڑھاپے میں ان کے کام آئے گا۔
لیکن جب اولاد غلط راستہ اختیار کرلے تو والدین کے یہی خواب آہستہ آہستہ خوف پریشانی اور پھر ناقابلِ تلافی دکھ میں بدلنے لگتے ہیں۔جرائم کی دنیا کا سب سے بڑا دھوکا یہی ہے کہ انسان سمجھتا ہے وہ حالات کو اپنے قابو میں رکھے ہوئے ہے۔
اسے لگتا ہے کہ وہ قانون سے بچ جائے گا ہر مشکل سے نکل آئے گا اور وقت آنے پر سب کچھ چھوڑ کر نئی زندگی شروع کر لے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جرم کی راہ پر ہر اگلا قدم واپسی کو پہلے سے زیادہ مشکل بنا سکتا ہے۔ کبھی گرفتاری کبھی مقدمات کبھی خاندان کی بدنامی اور کبھی زندگی کا ایسا اختتام جس کے بعد صفائی دینے والا بھی کوئی نہیں رہتا۔
نوجوانو بری صحبت کو معمولی نہ سمجھو۔ دوستوں کی محفل میں بیٹھنا کسی کے کہنے پر غلط کام میں شریک ہونا یا چند پیسوں کی خاطر کسی کا حق چھیننا بظاہر چھوٹی بات لگ سکتی ہےلیکن یہی چھوٹی غلطیاں انسان کو بڑے جرم تک لے جاتی ہیں۔ جب انسان غلطی کو غلطی ماننے سے انکار کردے تو پھر اسے نصیحت بھی بری لگتی ہے اور روکنے والا بھی دشمن دکھائی دیتا ہے۔ یاد رکھو، جو دوست تمہیں والدین کی نظروں میں شرمندہ کردے، تمہیں قانون سے بھڑنے پر آمادہ کرے اور تمہارے مستقبل کو خطرے میں ڈال دے، وہ تمہارا خیرخواہ نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ والدین کی عزت صرف اچھے کپڑے پہننے، اچھی گاڑی چلانے یا گھر میں پیسے لانے سے نہیں ہوتی۔ اصل عزت اس وقت ملتی ہے جب بیٹا حلال روزی کمائےکسی کا حق نہ مارے، کسی بے گناہ کو تکلیف نہ دے اور اپنے کردار سے خاندان کا نام روشن کرے۔ ایک غریب باپ اپنے بیٹے کی معمولی سی کامیابی پر بھی فخر محسوس کرتا ہے، لیکن جب اسی بیٹے کے نام کے ساتھ جرائم کا ذکر آنے لگے تو اس کے لیے لوگوں کا سامنا کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کی تربیت کے ساتھ ان کی صحبت پر توجہ دیں۔ اولاد کی غلطی کو محبت کے نام پر نظرانداز کرنا ہمیشہ درست نہیں۔ اگر بچہ غلط لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے لگےگھر سے جھوٹ بولے یا اس کے رویے میں خطرناک تبدیلیاں نظر آئیں تو بروقت بات کریں، سمجھائیں اور ضرورت پڑنے پر مناسب مدد لیں۔ اصلاح کا مقصد بچے کو رسوا کرنا نہیں بلکہ اسے اس مقام تک پہنچنے سے روکنا ہے جہاں واپسی کا راستہ باقی نہ رہے۔
یاسین گل کا انجام ہر نوجوان کے لیے ایک سوال چھوڑتا ہے کیا چند لمحوں کے فائدے غلط صحبت اور جرم کی دنیا میں نام بنانے کی خواہش زندگی سے زیادہ قیمتی ہے؟ کیا انسان کو اس وقت اپنے والدین کی قربانیاں یاد نہیں آتیں جب وہ کسی ایسے راستے پر قدم رکھتا ہے جو اس کے گھر والوں کو عمر بھر کے دکھ میں مبتلا کر سکتا ہے؟
ہم کسی کے انجام پر خوش نہیں ہوتے، لیکن ایسے واقعات سے سبق نہ لینا بھی دانش مندی نہیں۔ ایک زندگی کا خاتمہ صرف ایک خبر نہیں ہوتا اس کے پیچھے ایک خاندان کی ٹوٹتی امیدیں والدین کی محرومیاں اور کئی ادھورے خواب ہوتے ہیں۔
نوجوانو! اپنے والدین کے خوابوں کو اپنی غلطیوں کی بھینٹ نہ چڑھاؤ۔ ایسا راستہ اختیار کرو کہ تمہاری کامیابی پر ماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو ہوں تمہاری محنت پر باپ کا سر فخر سے بلند ہو۔ زندگی ایک بار ملتی ہے اسے جرم بری صحبت اور وقتی فائدے کے ہاتھوں ضائع مت کرو۔
کیونکہ غلط راستے پر ملنے والا وقتی فائدہ ختم ہو جاتا ہے، مگر اس کے نتائج بعض اوقات پوری زندگی اور پورے خاندان کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
عمران کملانہ
شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +