تھانوں میں ‘ضمنیاں’ لکھنے والے سگے بھائیوں کا عبرت ناک انجام

`تھانوں میں ‘ضمنیاں’ لکھنے والے سگے بھائیوں کا عبرت ناک انجام: پولیس کارکردگی پر سوالیہ نشان۔۔۔

خان پور/لیاقت پور)

خان پور اور علی پور میں ڈکیتی کی تین پے در پے وارداتیں کرنے والے دو سگے بھائی پولیس کے ‘مبینہ مقابلے’ میں ہلاک ہو گئے۔ ملزمان کاشف اور توحید بھٹی کی ہلاکت نے جہاں جرائم کے انجام کو واضح کیا، وہیں پولیس سسٹم کے کئی چھپے ہوئے راز بھی فاش کر دیے ہیں۔۔۔

`پولیس کی خامیاں اور نظام پر سوال:`

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہلاک ملزمان طویل عرصے تک پولیس تھانوں میں بیٹھ کر تفتیشی افسران کی `’ضمنیاں’` لکھتے رہے ہیں۔۔۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس کے اتنے قریب رہنے والے افراد قانون کی گرفت سے کیسے آزاد رہے؟ رقم کی ریکوری میں تضاد اور گرفتاری کے بعد ‘مبینہ مقابلے’ کی کہانی پولیس کی پیشہ ورانہ ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑی کرتی ہے۔۔۔

`نوجوانوں کی غلط راہ روی:`

خوبرو اور پڑھے لکھے ہونے کے باوجود ان دونوں بھائیوں نے محنت کے بجائے عیاشی، غلط صحبت اور فوری دولت کی چمک کو چنا۔۔۔

تھانوں میں پولیس کے طریقہ کار کی واقفیت نے انہیں بے خوف کر دیا، اور یہی خود اعتمادی انہیں موت کے منہ تک لے گئی۔۔۔

`معاشرے کے لیے پیغام:`

یہ واقعہ ہم سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ وقتی لذت اور عیاشی کا انجام نہ صرف عبرت ناک موت ہے بلکہ پیچھے رہ جانے والے والدین اور بہن بھائیوں کے لیے تاحیات رسوائی اور دکھ کا داغ ہے۔۔۔