چودھری ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کودیئے ہوئے تحفے واپس نہیں مانگے: چودھری سجاد چدھڑ ایڈووکیٹ
ہراسمنٹ کے الزام بے بنیاد ہیں
بھوآنہ (سپیشل رپورٹر) معروف قانون دان چودھری سجاد چدھڑ ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چودھری ثاقب چدھڑ، ایم پی اے کے خلاف حالیہ دنوں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر گردش کرنے والے الزامات بدنیتی اور یکطرفہ پروپیگنڈے پر مبنی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ چودھری ثاقب چدھڑ نے اداکارہ مومنہ اقبال کو دیے گئے تحائف کی واپسی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، اور نہ ہی گزشتہ آٹھ ماہ سے ان کی جانب سے مومنہ اقبال سے کسی قسم کا کوئی رابطہ کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ان کے ذاتی موبائل یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے کوئی نجی تصویر، ویڈیو یا ایسا مواد منظرِ عام پر نہیں آیا جس سے کسی کی عزت یا وقار متاثر ہوا ہو، جو چودھری ثاقب چدھڑ کے ذاتی کردار، شائستگی اور تعلقات کی رازداری کے احترام کا واضح ثبوت ہے۔
چودھری سجاد چدھڑ نے کہا کہ ثاقب چدھڑ کا ارادہ نکاح اور دائمی رفاقت کا تھا، جو ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ ان کے سابقہ ریکارڈ میں بھی اس نوعیت کا کوئی الزام موجود نہیں۔ انہوں نے اس معاملے کو ذاتی حیثیت تک محدود رکھا اور کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو، اس لیے اسے عوامی سطح پر اچھالنے سے گریز کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی حیثیت رکھنے کے باوجود چودھری ثاقب چدھڑ نے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا اور قانون و اخلاق کی حدود سے ہرگز تجاوز نہیں کیا۔ محض اس بنیاد پر کہ وہ ایک مرد ہیں، انہیں بلا تحقیق موردِ الزام ٹھہرانا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر “عورت کارڈ” کے باعث مرد کو صفائی کا مکمل موقع بھی نہیں ملتا۔
انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ یکطرفہ بیانیے اور سوشل میڈیا پروپیگنڈے پر یقین کرنے کے بجائے حقائق سامنے آنے کا انتظار کریں۔ انہیں یقین ہے کہ چودھری ثاقب چدھڑ اس معاملے میں سرخرو ہو کر سامنے آئیں گے۔
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
معروف پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال اور رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے درمیان تنازع نے ایک نیا اور حیران کن موڑ لے لیا ہے۔ معروف صحافی ارشاد بھٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ثاقب چدھڑ اب اداکارہ کو دیے گئےکروڑوں کی مالیت کے تحائف اور سفری اخراجات کی قانونی طور پر واپسی چاہتے ہیں۔
ارشاد بھٹی نے ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ سابق ایم پی اے نے شادی کی نیت سے مومنہ اقبال کو انتہائی قیمتی تحائف دیے تھے۔
ان تحائف میں ایک فارچیونر گاڑی، ایک ہونڈا سوک اور 84 لاکھ روپے مالیت کی ایک قیمتی گھڑی سمیت دیگر لگژری اشیاء شامل ہیں۔ ارشاد بھٹی کے مطابق فارچیونر گاڑی آج کل مومنہ کی والدہ کے زیر استعمال ہے۔ اس کے علاقہ بے شمار ٹریولنگ اور سفری اخراجات کی ایک لمبی فہرست ہے۔
ارشاد بھٹی کے مطابق ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے درمیان تقریباً پانچ سال تک تعلقات رہے اور بات شادی تک پہنچ گئی تھی۔
وکیل کے مطابق ثاقب چدھڑ اداکارہ کے گھر رشتہ لے کر بھی گئے تھے اور دونوں خاندان اس رشتے پر رضامند بھی تھے۔ تاہم بعد ازاں ثاقب چدھڑ کو معلوم ہوا کہ مومنہ اقبال کی پہلے بھی دو شادیاں ہو چکی ہیں، جن میں سے ایک سے طلاق پہلے ہو چکی تھی جبکہ دوسری شادی کا خاتمہ بھی اسی دوران ہوا جب دونوں کے درمیان تعلقات موجود تھے۔
ارشاد بھٹی کے مطابق وکیل کا کہنا ہے کہ انکشافات سامنے آنے کے بعد دونوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی، تاہم بعد میں معاملات دوبارہ بہتر ہوگئے اور شادی کی تیاریاں بھی شروع ہوگئی تھیں۔ لیکن صورتحال اس وقت دوبارہ خراب ہوئی جب ثاقب چدھڑ کو مبینہ طور پر مومنہ اقبال کی کسی اور جگہ شادی طے ہونے کا علم ہوا۔
ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے وکیل کے مطابق جب انہوں نے مومنہ اقبال سے اس حوالے سے رابطہ کیا تو بعد ازاں مومنہ کے ہونے والے شوہر کی جانب سے انہیں مبینہ دھمکیاں دی گئیں، جن کے خلاف ثاقب چدھڑ نے باقاعدہ مقدمہ بھی درج کروا دیا ہے۔ جس کا دونوں فریقین اعتراف کرچکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال یکم جون 2026 کو شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہی ہیں۔ ان کی بہن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام تنازعات اور خبروں کے باوجود مومنہ کی شادی اپنی مقررہ تاریخ پر ہی ہوگی اوردھوم دھام سے ہوگی۔
ابتدائی طور پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ مومنہ اقبال کی جانب سے شادی کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد ایم پی اے ثاقب چدھڑ مبینہ طور پر انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔
تاہم ارشاد بھٹی کے مطابق ثاقب چدھڑ کے وکیل نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ثاقب چدھڑ مومنہ اقبال کو ہراساں نہیں کر رہے بلکہ صرف اپنے دیے گئے تحائف واپس مانگ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مومنہ اگر کسی اور سے شادی کر رہی ہیں تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
ثاقب چدھڑ کے وکیل کا کہنا ہے کہ اب وہ ان تمام اخراجات اور تحائف کی باقاعدہ واپسی کے لیے درخواست دینے جا رہے ہیں۔
ارشاد بھٹی کی جانب سے سامنے لائی گئی تفصیلات نے اس کہانی کا ایک نیا رخ عوام کے سامنے رکھا ہے۔
اس وقت یہ سارا معاملہ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدت سے زیر بحث ہے۔
دونوں فریقین کے متضاد بیانات، ہراسانی کے الزامات اور کروڑوں روپے کے تحائف کی واپسی کے مطالبات کے بعد اس معاملے کے اصل حقائق جاننے میں گہری دلچسپی لی جا رہی ہے