ضلع جھنگ کا وہ گاؤں جہاں سے ایک درخت کاٹنے کی وجہ سے خونریزی جنگ نے جنم لیا، ایک قوم ایک قبیلہ چدھڑ کی داستان حقیقی، یاد رہے مزکورہ گاؤں ٹاہلی منگینی ایم پی اے بھوانہ ثاقب خان چدھڑ کا گاؤں ہے –
ٹاہلی منگینی کانام کیسے پڑا چدھڑ قبیلہ اور اس کی تاریخ پر اک نظر۔ ٹاہلی منگینی: زمین کی غیرت
چناب کے کنارے ایک زندہ تاریخ
—
دیباچہ
نوے برس کا بزرگ نوکرو مراسی جب دریائے چناب کے کنارے پر بیٹھ کر کمزور مگر سریلی آواز میں داستان چھیڑتا ہے، تو لگتا ہے جیسے صدیوں پرانا کوئی ساز اٹھا لایا ہو۔ اس کی آنکھوں میں وہی روشنی ہوتی ہے جو کسی شجرہ نویس کی آنکھوں میں ہوتی ہے — ایک ایسی روشنی جو ماضی سے آتی ہے اور مستقبل کو روشن کرتی ہے۔
وہ گاتا ہے۔ آواز میں لہریں ہوتی ہیں — کبھی چناب کی طرح رواں دواں، اور پھر ایک ایسی داستان سناتا ہے جو کسی تاریخی ناول سے کم نہیں…
—
پہلا باب: چناب کا کنارہ اور ایک درخت کی شان
یہ بات ہے سولہویں صدی کے آخر کی۔ راجپوتانہ کے سنگین صحراؤں سے نکل کر آئے چدھڑ قبیلہ اپنی گھوڑوں پر سوار، اپنے نیزوں اور تلواروں کی چھاؤں تلے، پنجاب کی سرسبز و سفید زمینوں میں داخل ہو کر ڈھائی تین صدیوں میں جیسے چار چاند لگا چکا تھاجیسے خدا نے یہاں اپنی رحمتیں بکھیر دیں۔
وہ چناب کے کنارے جہاں آج دریا کی لہریں ان کے پیروں کو چھوتی ہیں اور ان کے دلوں میں ایک عجیب سا سکون اترتا ہے۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں انہوں نے اپنا پہلا خیمہ گاڑا۔ اور پھر، جیسے کسی مخفی ہاتھ نے ان کی قسمت لکھی، یہی وہ مقام بنا جہاں ان کی سلطنت کی بنیاد پڑی۔
بھووانہ کا علاقہ — جو اس وقت گہری جنگلات اور ندی نالوں کا مرکز تھا — چدھڑوں کا مسکن بن گیا۔ لیکن سب سے خاص وہ جگہ تھی جہاں ایک وسیع کنال دریائے چناب سے نکل کر آگے بڑھتی تھی۔ اس کنال کے کنارے، ایک ایسا ٹاہلی کا درخت تھا جس کی عمر شاید کئی صدیوں پر محیط تھی۔ اس کی چھتری اتنی وسیع تھی کہ سو آدمی اس کے سایہ میں آرام کر سکتے تھے۔
صبح ہوتی تو گاؤں کے کسان اپنی بھینسیں اور بکریاں اسی درخت سے باندھ کر کھیتوں کو چلے جاتے۔ دوپہر کی سخت گرمی میں مزدور اسی سایہ تلے بیٹھ کر اپنی روٹی کھاتے۔ شام کو بچے اسی جڑوں کے پاس کھیلتے اور بوڑھے اسی ٹاہلی کے تنے سے ٹیک لگا کر کہانیاں سناتے۔
یہ درخت صرف ایک درخت نہیں تھا۔ یہ چدھڑ قبیلے کی شناخت تھا۔ ان کی زمین کی علامت تھی۔ اس درخت کے سایہ تلے ان کی عدالتیں لگتی تھیں، ان کے فیصلے ہوتے تھے، ان کی بیٹیاں بیٹھ کر گیت گاتی تھیں۔ یہ درخت ان کی زمین کا ایک حصہ تھا — اور ان کی غیرت کا ایک حصہ تھا۔
—
دوسرا باب: خان چدھڑ اور راجہ سیال کا ڈونڈا
جھنگ کی ریاست اس وقت سیال راجپوتوں کے زیر اقتدار تھی۔ راجہ سیال ایک طاقتور بادشاہ تھا جس کی فوجیں دریائے چناب کے دونوں کناروں پر رعب جمانے کی طاقت رکھتی تھیں۔
راجہ سیال کو ایک عجیب سا شوق تھا۔ وہ چناب میں خاص قیمتی کشتیوں — ڈونڈوں میں — سوار ہوکر سیر کرتا تھا۔ یہ ڈونڈے لمبے، تنگ اور تیز رفتار ہوتے تھے۔ ان پر رنگ برنگے پردے لگے ہوتے تھے۔
ایک دن — یہ دن تھا ساون کی پہلی تاریخ کا — راجہ سیال نے اپنی رانیوں، درباریوں اور محافظوں کے ہمراہ ایک طویل سفر کا پروگرام بنایا۔ اس کا مقصد تھا چناب کے اوپری علاقوں کا معائنہ کرنا۔
ڈونڈے چل پڑے۔ پانی پر پردے لہراتے، بانسری کی دھن گونجتی، اور راجہ سیال آگے بڑھا۔
جب ڈونڈے بھووانہ کے قریب پہنچے تو راجہ کی نظر اس وسیع کنال پر پڑی۔ اور پھر — جیسے کسی جادو نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا ہو — اس کی نظر اس ٹاہلی کے درخت پر ٹھہر گئی۔
وہ درخت! وہ سایہ! وہ شان!
راجہ سیال نے ڈونڈا روکوا دیا۔ اس نے درخت کو قریب سے دیکھا۔ اس کا تنا کتنا موٹا تھا! اس کی لکڑی کتنی سخت اور پائیدار تھی! راجہ کے ذہن میں ایک خیال آیا — اس کی زیر تعمیر محل کے دروازے، چھتیر اور دیگر کاموں کے لیے یہ بہترین لکڑی ہے۔
“اس درخت کو اکھاڑو!” راجہ کا حکم آیا جیسے کوئی بجلی کڑکے۔
اس کے ملازموں نے فوراً کام شروع کر دیا۔ بڑے بڑے کلہاڑے چلے۔ درخت کی جڑیں کتی گئیں۔
غریب کسان جو کھیتوں میں تھے، دوڑے آئے۔ مگر کیا کر سکتے تھے؟ راجہ سیال کی فوجیں انھیں دور دھکیل دیتی گئیں۔ بچے روئے، عورتیں چیخیں، اور بوڑھے ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگتے رہے۔
شام تک وہ ٹاہلی اکھاڑ کر ڈونڈوں پر لادی جا چکی تھی۔ راجہ سیال واپس جھنگ کی طرف روانہ ہو گیا — اپنے ساتھ چدھڑ قبیلے کی زمین کا ایک حصہ لے کر۔
—
تیسرا باب: خبر کی آگ اور لشکر کی جمعیت
اسی وقت، جب ٹاہلی کی جڑیں کٹ رہی تھیں، چدھڑ قبیلہ لاہور اور شیخوپورہ کے جنگلات میں مشترکہ شکار پر تھا۔ یہ ایک جنگجو قوم تھی۔ ان کے پاس تیر و کمان تھے، بھاری نیزے تھے، زرہ بکتر تھے، اور تیز رفتار گھوڑے تھے۔ کوئی سال میں ایک بار یہ مشترکہ شکار انھیں ایک جگہ جمع کرتا تھا۔
شکار ختم ہوا۔ خان چدھڑ — جو چدھڑ قبیلے کے سردار تھے — نے جب واپسی کا حکم دیا تو ایک تیز رفتار گھوڑا دور سے آتا نظر آیا۔
گھوڑے پر سوار ایک جوان تھا۔ اس کے چہرے پر خوف تھا۔ اس کے منہ سے نکلے الفاظ آگ کی طرح تھے:
“ٹاہلی… اکھاڑ لی گئی ہے! راجہ سیال… لے گیا ہے! ہماری زمین پر کوئی آکر من مرضی کر رہا ہے!”
وہ لمحہ — تاریخ کہتی ہے — چدھڑ قبیلے کی تاریخ کا سب سے اہم لمحہ تھا۔
خان چدھڑ نے ہاتھ اٹھایا۔ صرف ایک آواز آئی:
“آگ لگاؤ۔ ہر گاؤں میں آگ لگاؤ۔ ہر چدھڑ کو بلاؤ۔”
چدھڑ قبیلے کی ایک خاصیت تھی — وہ جب بھی کوئی بڑا کام کرنے لگتے، تو پہلے اپنی تمام “پہڑیوں” یعنی شاخوں کو جمع کرتے۔ مراسیوں کو بھیجا جاتا تھا۔ ہر گاؤں میں پہنچ کر وہ ایک خاص دھن گاتے:
یہ دھن گاتے گاتے مراسی گاؤں گاؤں گئے۔ اور چدھڑ جمع ہونے لگے۔ کوئی سوار تھا، کوئی پیادہ۔ کوئی نیزہ لائے تھا، کوئی کلہاڑا۔ کسی کے پاس زرہ تھی، کسی کے پاس تیر و کمان۔ یہ ایک جنگجو قوم تھی — باقاعدہ فوج نہیں تھی، لیکن ہر آدمی سپاہی تھا۔
تین دن میں، چناب کے کنارے ایک ایسا لشکر جمع ہوا جو دیکھنے والوں کے دل دہلا دیتا تھا۔ یہ ایک قبیلہ تھا — ایک روح تھی — جو اپنی زمین کی عزت کے لیے نکل پڑی تھی۔ ان کی غیرت نے گوارا نہ کیا تھا کہ کوئی آکر ان کی زمین میں اپنی مرضی کرے۔
—
چوتھا باب: جھنگ کا میدان
جھنگ میں جب یہ خبر پہنچی کہ چدھڑ آ رہے ہیں، تو راجہ سیال نے ہنستے ہوئے کہا:
“کچھ لٹیرے اورمیری فوج کے سامنے؟”
راجہ سیال کی فوج میں تربیت یافتہ سپاہی تھے۔ ان کے پاس جنگی سازوسامان تھا، زرہ بکتر تھے، ہتھیار تھے۔
لیکن راجہ سیال نے ایک چیز کا اندازہ نہیں لگایا تھا — وہ جذبہ جو اپنی زمین کے لیے لڑنے والوں میں ہوتا ہے۔
چدھڑوں کا حملہ صبح کے پہلے پہر شروع ہوا۔ وہ جھنگ کے میدان میں اس طرح نکلے جیسے چناب کی لہریں کنارے سے ٹکراتی ہیں — بار بار، ٹوٹ کر، پھر اٹھ کر۔
پہلا دن — راجہ سیال کی فوجیں حیران تھیں۔ یہ کون لوگ تھے جو موت کو شکست دینے آۓ تھے؟
دوسرا دن — میدان میں خون کی ندیاں بہنے لگیں۔ چدھڑ گرتے پھر اٹھتے لڑتے، لیکن پیچھے نہیں ہٹتے۔ ان کی غیرت انھیں آگے دھکیل رہی تھی۔
دوسرے دن کی شام تک، راجہ سیال کی فوج میں بھگدڑ مچ گئی۔ تربیت یافتہ سپاہی جنھوں نے لڑائی کے کئی میدان دیکھے تھے، وہ ان چدھڑوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکے جو اپنی زمین کے لیے لڑ رہے تھے۔
—
پانچواں باب: سرنڈر اور شرط
راجہ سیال نے جب دیکھا کہ اس کی فوجیں ٹوٹ رہی ہیں، تو اس کا دل کپکپا اٹھا۔ اس نے سفیر بھیجے۔ معافی مانگی۔ اور پھر خود، سفید جھنڈا لہراتا ہوا، میدان میں آیا۔
“میں ہار گیا!” راجہ سیال نے کہا۔ “جھنگ تمہارا ہے۔ یہ ریاست تمہاری ہے۔ بس مجھے معاف کر دو۔”
خان چدھڑ نے راجہ سیال کو گھورا۔ اس کی آنکھوں میں وہی آگ تھی جو تین دن سے جل رہی تھی۔ اس نے کہا:
“ہمیں تیری ریاست نہیں چاہیے۔ ہمیں تیرا تاج نہیں چاہیے۔ ہمیں صرف وہ درخت چاہیے جو تو نے ہماری زمین سے اکھاڑا ہے۔ ہماری زمین پر کوئی آکر من مرضی نہیں کر سکتا۔”
راجہ سیال نے راحت کی سانس لی۔ “وہ درخت! بالکل! میں تمھیں دس اس کے جیسے درخت لگا کر دیتا ہوں!”
“نہیں۔” خان چدھڑ کی آواز سنگین تھی۔ “وہی درخت۔ وہی لکڑی۔ اسی جگہ واپس۔”
خان چدھڑ نے اپنی شرط رکھی:
“تیری رانیاں — وہ اس کٹی ہوئی ٹاہلی کے ہر ایک ٹکڑے کے ساتھ ڈونڈوں میں سوار ہوں گی۔ اور اسی جگہ لے جایا جائے گا جہاں سے درخت اکھاڑا گیا تھا۔ وہیں ٹاہلی کے وہ ٹکڑے دوبارہ زمین میں لگا کر انہیں پانی دیا جائے گا۔ اور وہیں ان کی دیکھ بھال کی جائے گی۔”اور اگائے جائیں گے۔ جب تک کہ دوبارہ ان کی کونپلیں نہ پھوٹ پڑیں۔
یہ شرط راجہ سیال کے لیے اس سے بڑی سزا تھی۔ ایک راجہ کی رانیاں — درخت کی لکڑی لے جانے والی کشتیوں میں! لیکن راجہ سیال کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔
—
چھٹا باب: واپسی اور نام کی ولادت
اگلے دن کا منظر تاریخی تھا۔
چناب کا دریا جس پر راجہ سیال کا ڈونڈا غرور سے چلتا تھا، آج اسی دریا میں اس کی رانیاں ٹاہلی کے ٹکڑوں کے ساتھ ڈونڈوں پر بیٹھی تھیں — لیکن نہ کوئی پردہ تھا، نہ کوئی غرور۔ ان کے سامنے ٹاہلی کے کٹے ہوئے ٹکڑے رکھے تھے۔ ہر ڈونڈے میں ایک رانی، اور اس کے سامنے درخت کا ایک حصہ۔
چدھڑ قبیلے کے لوگ وہیں کنارے پر کھڑے تھے۔ کوئی آواز نہیں تھی۔ صرف چناب کی لہریں چل رہی تھیں — جیسے دریا خود اس واپسی کا گواہ بننا چاہتا ہو۔
جب ڈونڈے ٹاہلی کے مقام پر پہنچے جہاں سے ٹاہلی اکھاڑی تھی، رانیوں نے لکڑی کے ٹکڑے اترواۓ۔ مزدوروں نے انھیں احتیاط سے اتارا۔ اور پھر — جیسے کسی قدیم رسم کا ادا ہونا ہو — وہ لکڑیاں اسی جگہ کنارے پر زمین میں لگائی گئیں جہاں درخت کھڑا تھا۔
خان چدھڑ نے درخت کے تنے کے ٹکڑے کو چھوا۔ اس کی آنکھوں میں ایک غرور تھا — لیکن وہ غرور اپنی زمین کی، عزت و احترام کا تھا۔
جب یہ واقعہ پورا ہوا، تو چدھڑ قبیلے کے مراسیوں نے ایک نئی دھن بنائی:
> “ٹاہلی منگواایونی، ٹاہلی منگواایونی،
“منگینی” کا مطلب تھا “منگوائی” — یعنی واپس منگوائی گئی۔ جو بعد میں منگینی مشہور ہو گیا۔
اس دن سے اس علاقے کا نام ٹاہلی منگینی پڑ گیا۔ یہ نام صرف ایک جگہ کا نام نہیں تھا۔ یہ ایک واقعے کا نام تھا۔ ایک جذبے کا نام تھا۔ ایک قبیلے کی غیرت کا نام تھا۔
—
اختتامیہ: مراسی کی آواز
نوے سالہ نوکرو مراسی اپنی کہانی ختم کرتا ہے۔ اس کی آوازتھم جاتی ہے۔ اس کی آنکھیں دور چناب کی طرف اٹھی ہیں۔
وہ کہتا ہے:
“بچو، یہ درخت نہیں تھا۔ یہ ہماری زمین تھی۔ ہماری غیرت تھی۔ راجہ سیال نے سوچا تھا لکڑی لے جا کر محل بنائے گا۔ لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ کچھ لکڑیاں محلوں میں نہیں، غیرت کا الم۔بن جاتی ہیں۔ چدھڑوں نے جھنگ نہیں لیا، لیکن ایک نام لے لیا — ایک ایسا نام جو آج بھی ہماری زبان پر ہے: ٹاہلی منگینی۔”
—
حاشیہ
یہ داستان چدھڑ قبیلے کی زبانی روایتوں پر مبنی ہے جو نسل در نسل مراسیوں اور شجرہ نویسوں کے ذریعے محفوظ کی جاتی رہی ہے۔ تاریخی دستاویزات میں اس واقعے کی تصدیق یا تردید کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن مقامی ثقافت میں یہ ایک زندہ اور اہم حصہ ہے۔
ٹاہلی منگینی آج بھی ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھووانہ میں واقع ہے، اور چدھڑ قبیلہ اسے اپنے قبائلی تاریخ کا ایک اہم مرکز سمجھتا ہے۔
—
> “کچھ فتوحات زمین پر نہیں، دلوں پر ہوتی ہیں۔”
تحریر:سجاد حیدر ارحم خان چدھڑ
ٹاہلی منگینی کانام کیسے پڑا چدھڑ قبیلہ اور اس کی تاریخ پر اک نظر۔ ٹاہلی منگینی: زمین کی غیرت