چین میں پاکستانی گدھوں کے گوشت اور کھال کی طلب بڑھ گئی

چین میں گدھے کے گوشت اور کھال کی بڑھتی ہوئی طلب نے پاکستان، خصوصاً بلوچستان کے گوادر میں ایک نئی اور غیر معمولی برآمدی صنعت کو جنم دیا ہے۔ بلومبرگ کی 15 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق گوادر کے قریب ایک ذبح خانے اور پروسیسنگ پلانٹ میں سینکڑوں گدھوں کو چین کے لیے پروسیس کیا جا رہا ہے۔

چین کے بعض علاقوں میں گدھے کا گوشت ایک مرغوب غذا سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کاروبار کی بڑی کشش گدھے کی کھال ہے، جس سے ’’ای جیاو‘‘ (Ejiao) تیار کیا جاتا ہے۔ ای جیاو گدھے کی کھال سے حاصل ہونے والے کولیجن کو ابال کر بنائی جانے والی جیلاٹن نما مصنوعات ہیں، جو روایتی چینی طب میں استعمال ہوتی ہیں اور چین میں اس کی ایک بڑی مارکیٹ موجود ہے۔

بلومبرگ کے مطابق گوادر میں کام کرنے والی چینی کمپنی ہانگینگ گروپ نے گزشتہ چھ برسوں کے دوران پاکستان میں تقریباً 50 ملین ڈالر سرمایہ کاری کی ہے اور اس وقت تقریباً 500 مقامی افراد اور 9 چینی مینیجرز اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +