مومنہ اقبال کیس، رکن صوبائی اسمبلی ثاقب خان چدھڑ پر مقدمہ درج کر لیا گیا

ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی ثاقب خان چدھڑ کے خلاف مومنہ اقبال کی نازیبا س ی-کس وڈیو بنانے اوراسکی
بہن رمشا کو بھیج کر بلیک میل کرنے کی کوشش پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔
​مقدمہ کے متن میں کہا گیا کہ ایک انکوائری نمبر 2033/2026 مورخہ 18.05.2026 مسمات مومنہ اقبال دختر محمد اقبال (ساکن پارک ویو، لاہور) کی شکایت پر درج کی گئی۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ محمد ثاقب خان چدھڑ (رکن پنجاب اسمبلی)، ان کی اہلیہ سمیرا خان اور ان کے معلوم و نامعلوم ساتھیوں نے ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف سائبر ہراسانی، پیچھا کرنے (stalking)، مجرمانہ د@کیوں، بلیک میلنگ، بدنامی، غیر قانونی نگرانی اور دھمکیوں کی ایک مسلسل مہم چلا رکھی ہے۔

​انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ثاقب خان چدھڑ کی پہلے سے شادی شدہ ہونے کا علم ہونے پر جب انہوں نے ان کی شادی کی پیشکش کو مسترد کیا، تو ملزم نے انتقامی کارروائی کے طور پر بار بار د@کیاں دیں، ان کے نجی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی، ت ش دد آمیز مواد بھیجا اور ان کی نجی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کیا۔

ملزمان نے مبینہ طور پر انہیں سماجی اور پیشہ ورانہ طور پر بدنام کیا، غلط معلومات پھیلا کر ان کی 2023 کی شادی کی تجویز کو ناکام بنایا، اور حال ہی میں ان کی آنے والی شادی کو خراب کرنے، نجی مواد لیک کرنے، انہیں اور ان کے منگیتر کو نقصان پہنچانے کی د@یاں تیز کر دیں، جس سے شدید ذہنی، ساکھ اور پیشہ ورانہ نقصان پہنچا۔

​درخواست گزار نے ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ 1860 اور پیکا (PECA) 2016 کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی ہے۔ انکوائری کے دوران شکایت کنندہ کا بیان ریکارڈ کیا گیا اور انہوں نے تمام الزامات کی تصدیق کی۔ انہوں نے وہ ڈیٹا بھی پیش کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی ایک غیراخلاقی (explicit) ویڈیو مبینہ ثاقب خان چدھڑ نے اپنے موبائل نمبر 92345999999+ سے ان کے ساتھ شیئر کی تھی۔

مذکورہ یو ایس بی (USB) کو قبضے میں لے لیا گیا۔
​درخواست گزار کی چھوٹی بہن مسمات رمشا اقبال نے بیان دیا کہ شکایت کنندہ کی ایک غیراخلاقی ویڈیو مبینہ ملزم ثاقب خان چدھڑ نے اپنے موبائل نمبر 923004604145+ سے ان کے ساتھ بھی شیئر کی تھی۔ انہوں نے بھی ایک یو ایس بی پیش کی جس میں ویڈیو موجود تھی، جسے NCCIA نے قبضے میں لے لیا۔ شکایت کنندہ نے اپنا موبائل بھی بطور ڈیجیٹل ثبوت پیش کیا جسے قبضے میں لے لیا گیا۔


مطابقِ تفتیش، شکایت کنندہ کے فون کی ابتدائی تکنیکی تجزیاتی رپورٹ (Technical Analysis Report) سے انکشاف ہوا کہ مبینہ شخص محمد ثاقب خان نے واٹس ایپ نمبر 923004604145+ کا استعمال کرتے ہوئے شکایت کنندہ کے واٹس ایپ نمبر 923234934535+ پر نازیبا اور توہین آمیز پیغامات کے ساتھ جان سے مارنے کی دھمکیاں بھیجیں۔ ملزم نے اسی نمبر سے شکایت کنندہ کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والے پیغامات بھی بھیجے۔

مبینہ خاتون جن کا نام سمیرا صدیق ہے، انہوں نے اپنے واٹس ایپ نمبر 1111119-0309 کو استعمال کرتے ہوئے سائل (درخواست گزار) کے واٹس ایپ نمبر 923234934535+ پر توہین آمیز اور تذلیل آمیز پیغامات بھیجے۔ موبائل نمبر 1111119-0309 مبینہ خاتون سمیرا صدیق کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ مبینہ افراد سے 21.05.2026 کو اپنے موبائل فون جمع کرانے کا کہا گیا تھا۔ مبینہ خاتون سمیرا صدیق نے اپنا موبائل فون جمع نہیں کروایا۔ مبینہ شخص ثاقب خان چدھڑ نے 03.06.2026 کو اپنا فون جمع کرایا جسے مناسب ضبطگی کے تحت قبضے میں لے کر ڈیجیٹل میڈیا بیگ میں سیل کر دیا گیا۔


مبینہ ثاقب خان چدھڑ کے موبائل فون کی ابتدائی تکنیکی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ مذکورہ موبائل میں کوئی سوشل میڈیا ایپلی کیشن یا ڈیٹا موجود نہیں تھا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملزم کی طرف سے جان بوجھ کر اور 13 دن سے زائد کی تاخیر کے بعد فون جمع کرانے سے پہلے اسے صاف (ڈیلیٹ) کر دیا گیا تھا، کیونکہ مذکورہ مواد شکایت کنندہ کے موبائل میں موجود تھا۔ کال ڈیٹا ریکارڈ (CDR) میں آئی ایم ای آئی (IMEI) نمبر 350296271764180 جو کہ 923004604145+ کے ریکارڈ میں ہے، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہی فون مبینہ شخص یعنی ثاقب خان چدھڑ سے ضبط کیے گئے موبائل فون میں استعمال ہو رہا تھا۔ مذکورہ فون میں آئی ایم ای آئی (IMEI) نمبر 350296271769180 میں دوسری سم موبائل نمبر 03459999999 کے خلاف تھی جو ثاقب خان چدھڑ کے نام پر رجسٹرڈ ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دونوں نمبر اسی ایک فون میں ان کے زیرِ استعمال تھے۔


یہ نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ مبینہ شخص یعنی ثاقب خان چدھڑ نے انکوائری کی کارروائی کے دوران دیے گئے اپنے تحریری بیان میں بھی اسی نمبر (923004604145+) کا ذکر کیا ہے۔ انکوائری کی کارروائی کے دوران یہ بھی ثابت ہوا کہ دونوں مبینہ افراد نے سائل (درخواست گزار) کے ذاتی موبائل نمبر کا سی ڈی آر (CDR) حاصل کیا تھا، جسے حاصل کرنے کی انہیں عام طور پر اجازت نہیں ہے، اور اس میں موجود معلومات اور سی ڈی آر کو ان کی طرف سے شکایت کنندہ کے ساتھ شیئر کیا گیا تاکہ ہراساں کیا جا سکے، بلیک میل کیا جا سکے، کردار کشی کی جا سکے
یاد رہے کہ مومنہ اقبال کی جانب NCCIA کو درخواست دی گئی تھی کہ ثاقب چدھڑ انکو بلیک میل کر کر رہا ہے۔ پھر انسٹاگرام پر پوسٹ بھی لگائی گئی۔ جس پر مریم نواز نے بھی نوٹس لیا تھا۔

دوسری جانب اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا مقدمہ میں لیگی ایم پی اے ثاقب چڈھر کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ئے۔ عدالت نے 24 جون تک ثاقب چڈھر کو گرفتار کرنے سے روک دیا ۔ایڈیشنل سیشن جج عرفان احمد شیخ نے عبوری ضمانت پر سماعت کی ۔ثاقب چڈھر کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق پیش ہوئے

شیخ غلام مصطفیٰ چیف ایڈیٹر پاکستان آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +